اکھلیش کی فہرست سے کانگریس حیران ، اتحاد پر پھرچھائے خدشات کے بادل

Jan 20, 2017 02:50 PM IST | Updated on: Jan 20, 2017 03:40 PM IST

لکھنو : وزیر اعلی اکھلیش یادو کی جانب سے جمعہ کو سماج وادی پارٹی کے 191 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کئے جانے سے کانگریس پارٹی حیران ہے۔ ذرائع کے مطابق کانگریس سماجوادی پارٹی کے اس اعلان سے کافی ناراض ہے۔ کانگریسی لیڈروں کا کہنا ہے کہ دونوں کو ساتھ میں امیدواروں کا اعلان کرنا تھا، لیکن ایس پی نے پہلے ہی ایسا کر دیا۔یہی نہیں جو سیٹ کانگریس نے مانگی تھی، اس پر بھی ایس پی نے امیدوار کھڑے کر دیئے ہیں۔ ایسے میں دونوں جماعتوں کے اتحاد پر شک کے بادل چھا گئے ہیں۔

خیال رہے کہ سماجوادی پارٹی نے کانگریس کا دبدبہ والی سیٹوں پر بھی اپنے امیدوار کھڑے کردئے ہیں۔ مغربی اترپردیش میںسہارنپور میں کانگریس کا دبدبہ مانا جاتا ہے ، مگر وہاں کی سبھی ساتوں سیٹوں پر ایس پی نے اپنے امیدوار کا اعلان کیا ہے ۔ دیوبند میں کانگریس کے موجودہ ممبر اسمبلی معاویہ کو سماجوادی پارٹی کا ٹکٹ دیا گیا ہے۔ یہی نہیں کانگریس کی موجودہ سیٹیں ہاپور ، شاملی ، کھرجہ اور متھرا ستی پر بھی ایس پی نے اپنے امیدوار کا اعلان کیا ہے۔

اکھلیش کی فہرست سے کانگریس حیران ، اتحاد پر پھرچھائے خدشات کے بادل

نوئیڈا کے تینوں پر بھی ایس پی نے اپنے امیدوار کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق کانگریس یہاں سے کم از کم ایک سیٹ حاصل کرنے کی امید کر رہی تھی۔ وہیں اکھلیش خیمے کے رہنما كرمے نندا  نے کہا ہے کہ امیٹھی سیٹ کے علاوہ لکھنؤ کینٹ سیٹ بھی ایس پی اپنے پاس ہی رکھے گی۔ خیال رہے کہ امیٹھی کانگریس کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ، جبکہ کینٹ سیٹ پر کانگریس کی ریتا بہوگنا جوشی کو پچھلی مرتبہ کامیابی ملی تھی۔ تاہم جوشی اب بی جے پی میں شامل ہو چکیہیں ۔

سماجوادی پارٹی کے تازہ موقف سے دونوں کے اتحاد کے امکانات پر پھر خدشات کے بادل چھا گئے ہیں۔ کرمے نند ا نے کہا کہ کانگریس کو اصول کے مطابق 54 نشستیں ملنی چاہئے، لیکن 25-30 اور دی جا سکتی ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ سماج وادی پارٹی ان ہی سیٹوں کو کانگریس کو دینا چاہتی ہے، جن پر گزشتہ انتخابات میں کانگریس جیتی تھی یا پھر ایس پی تیسرے یا چوتھے نمبر پر رہی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز