سائیکل کس کی؟ ملائم کے بعد آج اکھلیش دھڑے کی ہوگی الیکشن کمیشن سے ملاقات

Jan 03, 2017 09:06 AM IST | Updated on: Jan 03, 2017 11:24 AM IST

نئی دہلی۔ سماج وادی سائیکل ٹوٹ چکی ہے لیکن سائیکل کی سیٹ پر سوار ہونے کے لئے ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو دونوں بیتاب ہیں۔ پیر کو ملائم اپنا دکھڑا لے کر دہلی میں الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچے تو آج بیٹے اکھلیش کی طرف سے صفائی دینے کے لئے چچا پروفیسر رام گوپال یادو پہنچنے والے ہیں۔

سائیکل پر سماج وادی سرکس کا منچ پیر کو لکھنؤ کی بجائے دہلی میں تھا۔ سیاسی داؤ پیچ میں بیٹے سے ہارا ہوا باپ لکھنؤ سے دہلی تک دوڑ لگا رہا تھا۔ ساتھ میں ایک ہمدرد بھائی بھی تھا، جس سائیکل پر سی ایم صاحب اترا کر چلتے تھے، اسی سائیکل پر حق کی لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ بیٹے کو جو سائیکل والد نے شوق سے دی تھی اس سائیکل پر بیٹے نے دعویداری ٹھونک دی ہے۔ ملائم کو سخت ہوکر الیکشن کمیشن کے سامنے یہ بتانا پڑا کہ بیٹے نے اتوار کو جو کیا وہ پارٹی آئین کے خلاف تھا۔ پارٹی بھی ان کی ہے اور سائیکل بھی ان کی ہے۔

سائیکل کس کی؟ ملائم کے بعد آج اکھلیش دھڑے کی ہوگی الیکشن کمیشن سے ملاقات

ذرائع بتاتے ہیں کہ ملائم سنگھ یادو نے الیکشن کمیشن کو پارٹی کے اندر ہوئی پوری اتھل پتھل کی معلومات دی۔ اکھلیش کے خیمے کی کارروائی کو پارٹی کے آئین کے خلاف قرار دیا۔ یہ بھی بتایا کہ رام گوپال اور اکھلیش یادو پہلے سے نکال دئیے گئے تھے۔ برخاست لیڈر رام گوپال اور اکھلیش اجلاس نہیں بلا سکتے تھے۔ پارٹی کے انتخابی نشان سائیکل پر اپنا دعوی بھی پیش کیا۔

ملائم کے ساتھ شیو پال کے علاوہ امر سنگھ اور جیہ پردا بھی میٹنگ میں شامل ہوئے۔ ملائم کے دعوے کا جواب دینے کے لئے آج پروفیسر رام گوپال یادو دہلی میں ہوں گے۔ الیکشن کمیشن سے ملاقات کریں گے اور پارٹی میں ہوئے واقعات کی معلومات دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتائیں گے کہ اصلی سماج وادی پارٹی اب وہی ہے جس کے قومی صدر اکھلیش یادو ہیں۔ تو الیکشن کمیشن کو یہ بھی بتائیں گے کہ سائیکل پر حق صرف ان کا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز