حج جیسے مقدس فریضہ کے سیاسی استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی: سعودی سفیر

Apr 25, 2017 09:12 PM IST | Updated on: Apr 25, 2017 09:12 PM IST

 نئی دہلی۔ ہندوستان میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر سعود بن محمد الساطی نے کہا ہے کہ حج جیسے مقدس فریضہ کو کسی بھی طرح کے سیاسی استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ان کا ملک حج کے دوران پیش آنے والے تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ ڈاکٹر الساطی آج یہاں اردو کے چنندہ صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حج ایک مقدس فریضہ ہے اور دنیا بھر سے لاکھوں افراد اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ آتے ہیں۔ سعودی حکومت ہمیشہ اس بات کی پوری کوشش کرتی ہے کہ عازمین حج پوری دلجمعی کے ساتھ مقدس فریضہ کو انجام دیں اور انہیں کسی طرح کی دشواری نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ حج ایک مذہبی فریضہ ہے اس لئے اس دوران کسی بھی طرح کی سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ملک عازمین حج اور بالخصوص ہندوستانی حاجیوں کا خیر مقدم کرنے کے لئے پوری طرح سے تیار ہے۔ مکہ مکرمہ میں حرم شریف اور مطاف نیز مدینہ منورہ میں توسیع کی وجہ سے حاجیوں کو کافی سہولت ہوجائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ سسٹم کو بھی کافی بہتر اورجدید بنایا گیا ہے اور اب صرف دو گھنٹہ میں ریل کے ذریعہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کا سفر طے کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی حاجیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سے جانے والے افراد قوانین کا پورا احترام کرتے ہیں۔

دو ہزار روپے کی نئی ہندوستانی کرنسی سعودی عرب نہ لے جانے کے سلسلے میں غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے ڈاکٹر الساطی نے کہا کہ ہندوستانی کرنسی سعودی عرب لے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے تاہم چونکہ وہاں ریال کا چلن ہے اس لئے ریال لے جانے میں لوگوں کو آسانی ہوگی۔ خیال رہے کہ حکومت ہند کے ضابطہ کے مطابق کوئی ہندوستانی صرف دس ہزارروپے تک کی ہی ہندوستانی کرنسی بیرون ملک لے جاسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعودی سفیر نے کہا کہ خادم حرمین شریفین نے کسی بھی دہشت گردانہ واقعہ کو ناکام بنانے کے لئے تمام ممکنہ انتظامات کئے ہیں۔ دہشت گردی کے حوالے سے ایک دیگر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب وہ پہلا ملک ہے جہا ں کے مفتی اعظم نے 1997میں دہشت گردی کے خلاف فتوی دیا تھا اور خود کش حملوں کی مذمت کی تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیااس سال ایرانی حجاج سعودی عرب جائیں گے تو انہوں نے بتایا کہ ایرانی اورسعودی حکومت کے درمیان اس سلسلے میں باضابطہ معاہدہ ہوچکا ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ سال ایک شیعہ عالم دین نمر بن نمر کو سعودی عر ب میں پھانسی دئے جانے کے خلاف تہران میں سعودی سفارت خانہ پر حملہ کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے او رایرانی عازمین حج پر نہیں جاسکے تھے۔ سعودی سفیر نے ہندوستان اور اسرائیل کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات اور وزیر اعظم نریندر مودی کے مجوزہ دورہ تل ابیب کے متعلق سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ملکوں کا باہمی معاملہ ہے۔

حج جیسے مقدس فریضہ کے سیاسی استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی: سعودی سفیر

ہندوستان میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر سعود بن محمد الساطی

جب ان سے پوچھا گیا کہ عازمین حج کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے والے پرائیوٹ ٹور آپریٹروں کے خلاف کیا ان کی حکومت کسی طر ح کی کارروائی کرتی ہے تو انہوں نے بتایا کہ ہمیں جب بھی کسی ویزا فراڈ یا غیر قانونی طریقہ کار کا پتہ چلتا ہے تو ہم حکومت ہند کے ساتھ مل کر اس کے خلاف قدم اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں سعودی حکومت کی پالیسی بہت سخت ہے۔ ڈاکٹر سعود بن محمد الساطی نے کہا کہ سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان نہایت دوستانہ تعلقات ہیں اور حالیہ برسوں میں باہمی تعلقات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ہندوستان کو ایک قریبی پارٹنر کے طور پر دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالانکہ اس وقت دونو ں ملکوں کے درمیان سب سے زیادہ باہمی تعاون دو شعبوں یعنی تجارت اور سرمایہ کاری اور دفا ع کے گرد گھومتا ہے تاہم ہم دیگر شعبوں بالخصوص آئی ٹی، انسانی وسائل ، بایو انفارمیٹکس، فارمیسی اور اعلی تعلیم میں بھی باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ خیال رہے کہ سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان گذشتہ مالی سال میں 25بلین ڈالر کی تجارت ہوئی جب کہ تقریباً بیس لاکھ ہندوستانی سعودی عرب میں مختلف شعبوں میں کام کررہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹیجک تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب ان ملکوں میں سے ایک تھا جنہوں نے اڑی میں ہندوستانی آرمی کیمپ پر ہوئے حملے کی مذمت کی تھی۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2016 میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ وہ جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی، منموہن سنگھ کے بعد سعودی عرب کا دورہ کرنے والے چوتھے وزیر اعظم تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز