جمعیتہ علما ہند کی بڑی کامیابی: ٹفن بم دھماکہ معاملہ میں چار مسلم نوجوان 14سال بعد سپریم کورٹ سے بری

نئی دہلی ۔ سپریم کورٹ نے گجرات میں دہشت گردی کے الزام میں برسوں سے جیل کی سزا کاٹ رہے ان چار مسلم نوجوانوں کوبری کرنے کے احکامات جاری کر دئے جنہیں 2002میں احمد آباد کی لوکل بسوں میں بم دھماکے کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔

Feb 02, 2017 07:01 PM IST | Updated on: Feb 02, 2017 07:02 PM IST

نئی دہلی ۔  سپریم کورٹ نے گجرات میں دہشت گردی کے الزام میں برسوں سے جیل کی سزا کاٹ رہے ان چار مسلم نوجوانوں کوبری کرنے کے احکامات جاری کر دئے جنہیں 2002میں احمد آباد کی لوکل بسوں میں بم دھماکے کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔

سپریم کورٹ میں اس معاملے کی پیروی کرنے والی جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اسے سچائی اور انصاف کی جیت قرار دیا ہے۔ اطلاع کے مطابق 2002میں گجرات میں بھیانک مسلم کش فسادات کے دنوں میں احمد آباد میں میونسپل کارپوریشن کی بسوں میں ’ٹفن بم دھماکہ‘ ہوئے تھے ۔ اے ایم ٹی ایس کی پانچ بسوں میں بم رکھے گئے تھے ، جن میں سے تین بسوں میں دھماکہ ہوا تھا اور اس کے نتیجہ میں 13 افراد معمولی طور پر زخمی ہوئے تھے ۔ باقی دو بموں کوبرآمد کر لیا گیا تھا اور ان میں سے ایک بم اس وقت پھٹ گیا تھا جب اسے ناکارہ کیا جا رہا تھا ۔ ا س حادثہ میں ایک اہلکار زخمی ہوا تھا۔ اس معاملے میں اپریل 2003میں کل 21افراد کو گرفتار کیا گیا تھا ، جن کے خلاف 19جولائی 2003کوپوٹا نافذ کیا گیا تھا۔

جمعیتہ علما ہند کی بڑی کامیابی: ٹفن بم دھماکہ معاملہ میں چار مسلم نوجوان 14سال بعد سپریم کورٹ سے بری

سماعت کے دورا ن نچلی عدالت نے ان میں سے چار افراد کے خلاف مقدمہ کو ڈسچارج کر دیا تھا اور 17ملزمان کے خلاف مقدمہ شروع کیا گیا تھا۔12مئی 2006کو خصوصی پوٹا عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے 17ملزمان میں سے 12 کوبری کر دیا جبکہ پانچ ملزمان مولوی احمد حسین حنیف بھائی پاکٹ والا،حبیب شفیع حوا ، کلیم حبیب کریمی اور انس راشد ماچس والا کو 10-10سال قید کی سزاسنائی ۔ ان پانچوں ملزمان نے خصوصی پوٹا عدالت کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جہاں سے مولوی احمد حسین نامی ایک ملزم کو توبری کر دیا گیا جبکہ باقی چار ملزمان محمد حنیف بھائی پاکٹ والا،حبیب شفیع حوا ، کلیم حبیب کریمی اور انس راشد ماچس والا کی سزا میں حکومت گجرات کی اپیل پر مزید اضافہ کرتے ہوئے انہیں عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا ۔ جس کے بعد ملزمین کی عمر قید کی سزاؤں کے خلاف 2011میں جمعیۃ علما ہند نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ اس معاملہ میں سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ نے آج اپنا فیصلہ سنایا جس کے مطابق حنیف بھائی پاکٹ والا،حبیب شفیع حوا کو مقدمہ سے باعزت بری کردیا گیا جبکہ دیگر دو ملزمین کلیم حبیب کریمی اور انس راشد ماچس والاکو ابتک انہوں نے جتنی سزا ء جیل میں گذاری ہے اسے ہی سزاء مانتے ہوئے انہیں پرسنل بانڈ پر رہا کرنے کے احکامات جاری کئے ۔ جمعیۃ علما ہند کی جانب سے سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس پیناکی چندیرا گھوس اورجسٹس آر ایف نریمن کے روبرو سینئر ایڈوکیٹ کے ٹی ایس تلسی، ایڈوکیٹ کامنی جیسوال، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشاد احمد، ایڈوکیٹ اعجاز مقبول اور ایڈوکیٹ خالد شیخ نے کامیاب پیروی کی ۔

سپریم کورٹ سے چاروں مسلم نوجوانوں کو بری کر دئے جانے کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اسے سچائی اور انصاف کی جیت قرار دیا اور کہا کہ یہ بات ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے کہ نچلی عدالتیں انصاف دینے میں ناکام رہی ہیں اور عدالت عظمی کی وجہ سے ہی ملک کے عوام کا عدلیہ میں اعتماد بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ جب نچلی عدالتوں سے عمر قید اور پھانسی تک کی سزائیں پانے والے بے قصور لوگوں کو سپریم کورٹ سے انصاف ملا اور وہ با عزت بری کئے گئے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ چاروں مسلم نوجوان عدالت عالیہ سے بری ہوگئے ہیں لیکن ان کی زندگی اور کیریئر توتباہ ہوہی گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم نوجوان دہشت گردی کے الزامات سے یکے بعد دیگرے بری ہو رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی پولس اور تفتیشی ایجنسیاں فرقہ پرستوں کے اشارے پر مسلم نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر ان کی زندگی سے کھلواڑ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے قصور مسلمانوں کی زندگی سے کھلواڑ کرنے والے آخر کہاں ہیں ؟ان کے چہروں سے اب نقاب اٹھانا ضروری ہے۔ یہ صورتحال ملک میں مسلم اقلیت کے لئے بے حد پریشان کن ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ آج نہیں تو کل حالات بدلیں گے اور مسلمانوں پر جو داغ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے وہ داغ ضرور ہٹے گا۔

مولانا ارشد مدنی، فائل فوٹو

مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ آج 14 سالوں کے طویل عرصہ بعد مسلم نوجوانوں کو انصاف حاصل ہوا ہے ۔ انصاف بھلے دیر سے حاصل ہوا ہے لیکن یہ ان کے لئے راحت کا باعث ضرور ہے ۔ واضح ہو کہ با عزت بری ہونے والا محمد حنیف بھائی پاکٹ والا کی ا س معاملے میں گرفتاری کے بعد ان کا پورا کنبہ بکھر گیا ۔حنیف پاکٹ والاکے جیل میں رہتے ہوئے ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ان کی اہلیہ بھی فوت ہوگئی اور ان کے بعد انکے بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے حنیف پاکٹ والا کی بہن بھی اس دنیا سے رخصت سے ہوگئی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز