سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، اردو میں بھی 2018-19 میں دے سکیں گے نیٹ امتحان

Apr 13, 2017 04:15 PM IST | Updated on: Apr 13, 2017 04:21 PM IST

نئی دہلی۔ ایک عرصہ سے اردو زبان میں نیشنل الیجبلٹی کم انٹرینس ٹیسٹ( نیٹ)  امتحان دینے کا مطالبہ کرنے والوں کے لئے ایک اچھی خبر ہے۔ سپریم کورٹ نے دو ہزار اٹھارہ اور انیس کے نیٹ امتحان یعنی طبی کورسوں میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے مشترکہ امتحان میں اردو زبان کو شامل کرنے کی مرکز کو ہدایت دی ہے۔ سپریم کورٹ کی اس ہدایت سے یہ واضح ہو گیا کہ رواں سال میں اردو زبان کو نیٹ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ دس زبانوں ہندی، انگلش، گجراتی، مراٹھی، اڑیہ، بنگالی، آسامی، تیلگو، تمل اور کنڑ میں نیٹ امتحانات منعقد کرائے جاتے ہیں۔ اس کے مدنظر اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا( ایس آئی او) نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی جس میں نیٹ امتحانات میں اردو کو بھی شامل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ ایس آئی او کی دائر کردہ عرضی میں یہ دلیل دی گئی کہ چونکہ اردو زبان کا تعلق مسلمانوں سے ہے، اس لئے حکومتی اہلکاروں نے اس کے تئیں متعصبانہ رویہ اختیار کیا اور انہوں نے جان بوجھ کر نیٹ امتحانات سے ایک میڈیم کے طور پر اردو زبان کو الگ تھلگ رکھا۔

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، اردو میں بھی 2018-19  میں دے سکیں گے نیٹ امتحان

گزشتہ مہینے مرکز نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ دو ہزار اٹھارہ کے تعلیمی سال سے اردو میڈیم میں نیٹ امتحانات منعقد کرانے سے اسے گریز نہیں ہے۔ مرکز نے کہا تھا کہ لیکن جاری سال میں ایسا کر پانا اس کے لئے ممکن نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز