گئوركشك تنظیموں پر پابندی سےمتعلق عرضی پر سپریم کورٹ کا مرکز اور 6 ریاستوں کو نوٹس ، جواب طلب

Apr 07, 2017 12:09 PM IST | Updated on: Apr 07, 2017 03:29 PM IST

نئی دہلی: گئوركشا کے نام پر قائم تنظیموں پر پابندی عائد کرنے سے متعلق داخل مفاد عامہ کی عرضی پر سپریم کورٹ نے جمعہ کو مرکزی حکومت اور چھ ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کر کے تین ہفتے میں جواب طلب کیا ہے۔ مرکز کی مودی حکومت کے علاوہ جن ریاستوں کو نوٹس جاری کیا گیا ہے، ان میں گجرات، راجستھان، جھارکھنڈ، مہاراشٹر، اتر پردیش اور کرناٹک شامل ہیں۔ معاملہ کی اگلی سماعت 3 مئی کو ہوگی۔

درخواست گزار تحسین پوناوالا نے راجستھان کے الور علاقہ میں گئو رکشا کے نام پر قتل کا حوالہ دیتے ہوئے گئوركشا کے نام پر دلتوں اور اقلیتوں کے خلاف جاری تشدد کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے تشدد کرنے والی تنظیموں پر اسی طرح پابندی عائد کی جائے، جیسی سیمی جیسی تنظیموں پر عائد ہے۔ معاملہ کی پچھلی سماعت کے دوران عدالت نے ان ساتوں حکومتوں سے جواب طلب کیا تھا، لیکن جواب داخل نہ کرنے پر جمعہ کو نوٹس جاری کیا گیا۔

گئوركشك تنظیموں پر پابندی سےمتعلق عرضی پر سپریم کورٹ کا مرکز اور 6 ریاستوں کو نوٹس ، جواب طلب

فائل فوٹو

عرضی میں الور کے واقعہ پر راجستھان حکومت کے بڑے حکام سے حلف نامے میں رپورٹ دینے کا حکم دینے پر بھی زور دیا گیا تھا، لیکن کورٹ نے اس معاملے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملک کی کچھ ریاستوں میں گئوركشا کے نام پر قائم تنظیموں کو سرکاری منظوری ملی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ان کے حوصلے بڑھے ہوئے ہیں۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس طرح کی گئوركشك تنظیموں کی سرکاری منظوری ختم کی جائے۔ درخواست کے ساتھ گئوركشك تنظیموں کی طرف کی گئی مبینہ تشدد کے ویڈیو اور اخبار ات کی کٹنگ بھی لگائی گئی ہیں اور عدالت سے ان کا نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز