کیرالہ مبینہ لو جہاد کیس : سپریم کورٹ نے کی این آئی اے کی سخت سرزنش ، پوچھا یہ تلخ سوال

سپریم کورٹ نے کیرالہ میں ہندو لڑکی اور مسلم لڑکے کے نکاح کے معاملے میں بے مثال فیصلہ سناتے ہوئے اكھیلا اشوكن عرف هاديہ کو 27 نومبر کو عدالت میں پیش کرنے کو کہا ہے۔

Oct 30, 2017 01:44 PM IST | Updated on: Oct 30, 2017 03:28 PM IST

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے کیرالہ میں ہندو لڑکی اور مسلم لڑکے کے نکاح کے معاملے میں بے مثال فیصلہ سناتے ہوئے اكھیلا اشوكن عرف هاديہ کو 27 نومبر کو عدالت میں پیش کرنے کو کہا ہے۔ چیف جسٹس جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم كھانولكر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے مسلم نوجوان شیفین جہاں کی عرضی پر سماعت کے دوران لڑکی کے والد اور کیس کے مدعا علیہ کے ایم اشوكن کو حکم دیا کہ وہ 27 نومبر کو اگلی سماعت کے دوران لڑکی اكھیلا اشوكن عرف هاديہ (تبدیلی مذہب کے بعد کانام) کو پیش کریں۔

سماعت کے دوران عدالت نے تبصرہ کیا کہ لڑکی بالغ ہے اور اس معاملے میں اس کا موقف بھی جاننا ضروری ہے۔لہذا، عدالت ہدیہ کے موقف کو بھی کھلی عدالت میں سنناچاہتی ہے۔  سپریم کورٹ نے ہدیہ کے والد کو ہدایت کی کہ سماعت کی اگلی تاریخ کو وہ اپنی بیٹی کو اس کے سامنے پیش کریں تاکہ وہ اپنا موقف  عدالت کے سامنے رکھ سکے۔ بینچ نے سماعت کے دوران قومی تحقیقاتی ایجنسی کی بھی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا کوئی قانون کسی لڑکی کو کسی مجرم سے محبت کرنے سے نہیں روک سکتا۔ اگر لڑکی بالغ ہے تو صرف اس کی رضامندی ہی ضروری ہے۔

کیرالہ مبینہ لو جہاد کیس : سپریم کورٹ نے کی این آئی اے کی سخت سرزنش ، پوچھا یہ تلخ سوال

سپریم کورٹ آف انڈیا: فائل فوٹو، گیٹی امیجیز۔

واضح رہے کہ اکھیلا اشوکن نے مذہب تبدیل کرلیا تھا اور اس نے اپنا نام ہدیہ رکھا تھانیز ہدیہ نے مسلم نوجوان شیفین جہاں سے اپنی مرضی سے نکاح کر لیا تھا۔ اس کے والد کے ایم اشوکن نے کیرالہ ہائی کورٹ میں اس نکاح کو چیلنج کیا تھا ، جس کے بعد ہائی کورٹ نے نکاح منسوخ کردی تھی۔ شیفین نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے معاملہ کی تحقیقات کے لئے این آئی اے کو حکم دیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز