آدھار معاملے میں کوئی حکم یا عبوری حکم دینے سے سپریم کورٹ کا انکار

Jun 27, 2017 06:46 PM IST | Updated on: Jun 27, 2017 06:46 PM IST

نئی دہلی۔  سپریم کورٹ نے مخصوص شناختی نمبر (آدھار) معاملے میں کوئی حکم یا عبوری حکم جاری کرنے سے آج انکار کر دیا۔ جسٹس اے ایم كھانولكر اور جسٹس نوین سنہا کی تعطیلاتی بینچ نے اگرچہ کیس کی سماعت سات جولائی کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے کہا کہ جن کے پاس آدھار کارڈ نمبر نہیں ہے، انہیں حکومت کے کسی بھی منصوبہ کے فوائد سے محروم نہیں کیا جا سکے گا۔ مرکزی حکومت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جن لوگوں کے پاس آدھار نمبر نہیں ہے، ان کے لئے اس کی تاریخ 30 ستمبر تک بڑھا دی گئی ہے۔

سینئر وکیل شیام دیوان نے درخواست گزاروں کی جانب سے جرح کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے 2015 کے حکم میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ آدھار کارڈ نمبر کی غیر موجودگی میں کسی بھی شخص کو حکومت کی فلاحی اسکیموں کے فوائد سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ مسٹر دیوان نے کہا کہ آدھار منصوبہ کو اس وقت تک لازمی نہیں کیا جا سکتا، جب تک بڑی بینچ یا آئینی بینچ پرائیویسی کی خلاف ورزی کے مسئلے پر اپنا فیصلہ نہیں سنا دیتی۔

آدھار معاملے میں کوئی حکم یا عبوری حکم دینے سے سپریم کورٹ کا انکار

ایڈیشنل سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے دلیل دی کہ اگر کسی بھی شخص کو ایسا لگتا ہے کہ اس کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے۔

عدالت نے گزشتہ نو جون کو آدھار کو پین سے منسلک کرنے کے مرکزی حکومت کے حکم پر یہ کہتے ہوئے روک لگا دی تھی کہ جب تک آئینی بینچ متعلقہ معاملے کی سماعت نہیں کر لیتی، اس وقت تک حکومت کے حکم پر روک رہے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز