مالیگاؤں 2008 معاملہ: کرنل پروہت کی ضمانت عرضداشت پر بحث مکمل، فیصلہ محفوظ

ممبئی۔ مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے کے کلیدی ملزم لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت کی ضمانت عرضداشت پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران ایک جانب جہاں قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے برائے نام کرنل پروہت کی ضمانت عرضداشت کی مخالفت کی۔

Aug 17, 2017 05:37 PM IST | Updated on: Aug 17, 2017 05:38 PM IST

ممبئی۔ مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے کے کلیدی ملزم لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت کی ضمانت عرضداشت پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران ایک جانب جہاں قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے برائے نام کرنل پروہت کی ضمانت عرضداشت کی مخالفت کی وہیں متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے مقرر کیئے گئے سابق ایڈیشنل سالسٹر جنرل ایڈوکیٹ امریندر شرن نے سخت لفظوں میں مخالفت کی اور عدالت کے سامنے ان سب حقائق اور ثبوت وشواہد کو پیش کیا جسے مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نے اکٹھا کیا تھا ۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔

گلزار اعظمی کے مطابق سپریم کورٹ کی دورکنی بینچ کے جسٹس آر کے اگروال اور جسٹس ابھے منوہر سپرے کے روبرو کرنل پروہت کو ضمانت پر رہا کئے جانے کی وکالت مشہور سینئر وکیل ہریش سالوے نے کی اور عدالت کو بتایا کہ ملزم گذشتہ آٹھ برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے نیز این آئی اے کی تازہ تفتیش میں ملزم کے خلاف دھماکہ خیز مادہ آر ڈی ایکس دیگر ملزمین کو مہیا کرانے کا کوئی ثبوت ہاتھ نہیں لگا ہے اسی کے ساتھ ساتھ گذشتہ برس سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں یہ کہا تھا کہ ملزمین پر مکوکا قانون کا اطلاق نہیں ہوتا لہذا ان سب وجوہات کے مد نظر ملزم کو مشروط ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔ ہریش سالوے کی بحث کے بعد کرنل پروہت کو ضمانت پر رہا کئے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے جمعیۃ علماء کے وکیل امریندر شرن نے عدالت کوبتایا کہ بادی النظر میں ملزم کے خلاف ثبوت وشواہد موجود ہیں اور وہ مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے کا کلیدی ملزم ہے لہذا اسے ضمانت پر رہا نہیں کیا جانا چاہیئے نیز اگر ملزم کو ضمانت پر رہا کیا گیا تو وہ اس کے خلاف موجود ثبوت وشواہد کو مٹانے کی کوشش کرسکتا ہے اور اسی وجہ سے نچلی عدالت اور ممبئی ہائی کورٹ نے بھی اسے ضمانت سے محروم رکھا ہے ۔

مالیگاؤں 2008 معاملہ: کرنل پروہت کی ضمانت عرضداشت پر بحث مکمل، فیصلہ محفوظ

مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے کے کلیدی ملزم لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت کی فائل فوٹو۔

ایڈوکیٹ امریندر شرن نے عدالت کوبتایا کہ ملزم ابھینو بھارت نامی ممنوع دہشت گردتنظیم کا رکن ہے اور اس نے ہندوستان کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کے لئے اسرائیل اور تھائی لینڈ سے مدد بھی حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس تعلق سے فنڈ بھی اکٹھاکیا تھا۔ انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ فی الحال عدالت کواے ٹی ایس اوراین آئی اے کی جانب سے داخل کردہ فرد جرم کی روشنی میں ملزم کی ضمانت عرضداشت پر فیصلہ کرنا ہوگا نہ صرف این آئی اے کی چارج شیٹ کو درست تسلیم کیا جائے۔ متاثرین کی نمائدگی کرنے کے لئے جمعیۃ علماء کی جانب سے مقرر کئے گئے وکلاء سابق ایڈیشنل سالسٹر جنرل آف انڈیا امرندن شرن ،ایڈوکیٹ گورو اگروال، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول ،ایڈوکیٹ شاہد ندیم ،ایڈوکیٹ جارج تھامس،ایڈوکیٹ تانیا شری،ایڈوکیٹ عارف علی ودیگر موجود تھے جنہوں نے کرنل پروہت کو ضمانت پر نہ رہاکئے جانے کے تعلق سے اپنے دلائل تحریری طور پر بھی عدالت کے سامنے پیش کئے ۔ اسی درمیان متاثرین کی جانب سے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی ضمانت منسوخ کرنے والی عرضداشت پر سماعت 10 اکتوبر تک ٹل گئی کیوں کہ سادھوی کے وکلاء نے حلف نامہ داخل کرنے کے لیئے عدالت سے وقت طلب کیا جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ممبئی ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ کے جسٹس نریش اگروال اور پرکاش نائیک نے ملزم کرنل پروہت کی یہ کہتے ہوئے ضمانت مسترد کردی تھی کہ بادی النظر میں ملزم کیخلاف پختہ ثبوت وشواہد موجود ہیں جس کے بعد ملزم نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کیا ہے لیکن اسی بینچ نے سادھوی کو مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے تھے ۔ 29 ستمبر 2008 کو ہونے والے اس سلسلہ وار بم دھماکہ معاملہ میں 6 مسلم نوجوان شہید جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے تھے مقدمہ کی ابتدا ئی تفتیش انسداد دہشت گرد دستہ ( اے ٹی ایس ) نے آ نجہانی ہیمنت کرکرے کی سربراہی میں کی تھی اور پہلی بار بھگوا دہشت گردی پر پڑے پردے کو بے نقاب کیا تھا لیکن مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننے کے بعد سے اس معاملے کی بلا وجہ تازہ تحقیقات کرنے والی قومی تفتیشی ایجنسی نے بھگوا ملزمین کو فائدہ پہنچانے کا کام شروع کردیا اور اضافی فرد جرم داخل کرتے ہوئے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر سمیت دیگر بھگوا ملزمین کو راحت پہنچائی ۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز