سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ : مذہب، ذات اور برادری کے نام پر ووٹ مانگنا غیر قانونی

Jan 02, 2017 12:34 PM IST | Updated on: Jan 02, 2017 01:18 PM IST

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے آج اپنے ایک اہم فیصلے میں امیدوار یا اس کے حامیوں کے مذہب، برادری، ذات اور زبان کی بنیاد پر ووٹ مانگنے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ عدالت نے عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 123 (3) کی وضاحت کرتے ہوئے یہ اہم فیصلہ سنایا۔ سات ججوں کی بنچ نے چار تین کی اکثریت سے یہ فیصلہ دیا۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی قیادت والی بنچ نے اس معاملے میں سماعت کے دوران عوامی نمائندگی قانون کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے کیلئے اپیل کرنے کے معاملے میں کس مذہب کی بات ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ انتخابات ایک سیکولر طریقہ ہے اور عوامی نمائندوں کو بھی اپنے کام کاج سیکولر بنیاد پر ہی کرنے چاہئیں۔

عدالت نے اکثریت کی بنیاد پر دیے گئے اس فیصلے میں کہا کہ مذہب کی بنیاد پر ووٹ دینے کی کوئی بھی اپیل انتخابی قوانین کے تحت بدعنوانی کی طرح ہے۔ عدالت نے کہا کہ بھگوان اور انسان کے درمیان کا رشتہ ذاتی معاملہ ہے۔ کوئی بھی حکومت کسی ایک مذہب کے ساتھ خاص سلوک نہیں کر سکتی اورخاص مذہب کے ساتھ خود کو شامل نہیں کر سکتی۔ فیصلے کے حق میں جج ٹھاکر کے علاوہ جسٹس ایم لوكر، جسٹس ایل این راؤ اور ایس اے بوبڈے نے اس طرح کا خیال پیش کیا جبکہ اقلیت میں جسٹس يويو للت ، جسٹس اے گوئل اور جسٹس ڈي وائي چندرچوڑ نے خیال پیش کیا ۔ عدالت نے ہندوتو معاملے میں دائر بہت سی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی امیدوار ایسا کرتا ہے تو یہ عوامی نمائندگی قانون کے تحت بدعنوانی والا ررویہ مانا جائے گا اور یہ قانون کی دفعہ 123 (3) کے دائرے میں ہوگا۔

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ : مذہب، ذات اور برادری کے نام پر ووٹ مانگنا غیر قانونی

اس معاملے سے متعلق درخواستوں پر گزشتہ چھ دنوں میں مسلسل سماعت ہوئی۔ سینئر وکیل کپل سبل، سلمان خورشید، شیام دیوان، اندرا جے سنگھ اور اروند دتتار وغیرہ کئی نامی گرامی وکلاء نے دلیلیں پیش کیں ۔ بینچ نے ایک بار پھر یہ واضح کیا کہ وہ ہندوتو کے معاملے میں دیے گئے 1995 کے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کرے گی۔ جج جی ورما کی بنچ نے دسمبر 1995 میں فیصلہ دیا تھا کہ ہندوتو لفظ ہندوستانی لوگوں کے طرز زندگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ہندوتو لفظ کو صرف مذہب تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ کورٹ کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب آئند چند ماہ میں ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے علاوہ پنجاب، اتراکھنڈ سمیت کئی ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز