علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی 88 طالبات کو شریمتی ارمیلا متّل ٹرسٹ کی جانب سے اسکالر شپ

علی گڑھ ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی کامرس فیکلٹی، یونانی میڈیسن، ایگریکلچرل سائنس، قانون، مینجمنٹ اور انجینئرنگ فیکلٹی کے علاوہ ووکیشنل اسٹڈیز کی88طالبات کو آج شریمتی ارمیلا متّل ٹرسٹ کی جانب سے اسکالر شپ دی گئی۔

Oct 23, 2017 09:57 PM IST | Updated on: Oct 23, 2017 09:57 PM IST

علی گڑھ ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی کامرس فیکلٹی، یونانی میڈیسن، ایگریکلچرل سائنس، قانون، مینجمنٹ اور انجینئرنگ فیکلٹی کے علاوہ ووکیشنل اسٹڈیز کی88طالبات کو آج شریمتی ارمیلا متّل ٹرسٹ کی جانب سے اسکالر شپ دی گئی۔ یہ اسکالر شپ شریمتی ارمیلا متّل ٹرسٹ کے چیئرمین اور اے ایم یو کے سابق طالب علم مسٹر سی ڈی متّل، وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور، شریمتی وجے گوول اور محترمہ اوشا گپتا نے ویمنس پالی ٹیکنک آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک عظیم الشان پروگرام کے دوران تفویض کی۔

اس موقع پر منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سی ڈی متّل نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ کرنا زندگی کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ کیونکہ گھر میں ایک لڑکی کے تعلیم یافتہ ہونے سے پورا خاندان تعلیم یافتہ ہوتا ہے جبکہ ایک لڑکے کے تعلیم یافتہ ہونے سے ایک فرد تعلیم یافتہ ہوتا ہے۔ مسٹر متّل نے اپنی والدہ شریمتی ارمیلا متّل کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ حالانکہ ان کا تعلق ایک درمیانی طبقہ کے خاندان سے تھا لیکن تعلیم کے تئیں وہ بہت بیدار تھیں۔انہوں نے کہا کہ حالانکہ ان کے کوئی بیٹی نہیں ہے لیکن انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ ہزاروں لڑکیوں کے والد ہیں۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی 88 طالبات کو شریمتی ارمیلا متّل ٹرسٹ کی جانب سے اسکالر شپ

وائس چانسلر نے تعلیمِ نسواں کے تئیں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ متعدد مذہبی تنظیمیں عالمی سطح پر سماجی فروغ کے لئے کام کر رہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسٹر متّل سے ترغیب حاصل کرکے مزید لوگ اس نیک کام سے جڑیں۔

مسٹر متّل نے یونیورسٹی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بعد بھی یہ اسکالر شپ لڑکیوں کو ملنا جاری رہے گی۔ انہوں نے اسکالر شپ حاصل کرنے والی طالبات سے کہا کہ وہ اپنے روشن مستقبل کی تعمیر کرکے سماج کے فروغ میں سرگرم رول ادا کریں۔وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہا کہ مسٹر سی ڈی متّل نے طالبات کو اسکالر شپ دے کر جو کام انجام دیا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج کو تعلیم یافتہ بناکر متعدد مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی طور پر کمزور ہونے کے سبب لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتی ہیں اور اس طرح کے اسکالرشپ ملنے سے یقینی طور پر مالی طور سے کمزور لڑکیوں کی خود کفالت میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ایسی دولت ہے جو ہمیشہ محفوظ رہتی ہے جبکہ دنیاوی دولت آنی جانی ہے۔

وائس چانسلر نے تعلیمِ نسواں کے تئیں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ متعدد مذہبی تنظیمیں عالمی سطح پر سماجی فروغ کے لئے کام کر رہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسٹر متّل سے ترغیب حاصل کرکے مزید لوگ اس نیک کام سے جڑیں۔ڈی ایس ڈبلیو پروفیسر جمشید صدیقی نے شریمتی ارمیلا متّل ٹرسٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ ٹرسٹ گزشتہ تین سال سے مسلسل اے ایم یو کی طالبات کو اسکالر شپ دے رہا ہے۔اسکالر شپ پانے والی طالبات ندا انصاری اور نمیشا گپتا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسکالر شپ ملنے کے بعد ان کے خاندان کا اقتصادی بوجھ کم ہوا ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز