ایسے برباد ہو رہا ہے کشمیرکا مستقبل ، 10 میں سے 6 دن بند رہ رہے ہیں اسکول و کالج

Jun 25, 2017 06:00 PM IST | Updated on: Jun 25, 2017 06:00 PM IST

سری نگر : جموں کشمیر کے دہلی پبلک اسکول میں اتوار کی صبح دہشت گردوں اور سیکورٹی فورسز میں 16 گھنٹے تک انکاؤنٹر چلا۔ تاہم سیکورٹی فورسز نے دو دہشت گردوں کو مار گرایا، لیکن اس سے علاقے میں خوف و ہراس ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اسکول میں پڑھنے والے بچوں اور ان کے خاندان والے بھی فکر مند ہیں۔

دہشت گردوں کو ڈھیر کرنے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے اسکول کے ایک ایک کمرے کی تلاشی لی۔ تلاش مہم کے بعد اسکول کو محفوظ قرار دیا گیا۔ چند گھنٹے پہلے اسکول سے گھر گئے بچوں کو وہاں تصادم کی اطلاع ملی ، تو اپنے کلاس روم میں ہونے والے تمام واقعات پر وہ خوف اور بے چینی سے نظر یں جمائے ہوئے تھے

ایسے برباد ہو رہا ہے کشمیرکا مستقبل ، 10 میں سے 6 دن بند رہ رہے ہیں اسکول و کالج

دس دن میں چھ دن اسکول بند

سچائی یہ ہے کہ ڈی پی ایس سری نگر کے طلبہ ہی صرف ایسے نہیں ہیں ، جنہوں نے اپنے اوپر آتے دہشت گرد انہ خطرے کو محسوس کیا ہوگا۔ گزشتہ ایک سال میں دہشت گردی کی وجہ سے وادی کے سکول اور کالج 10 دن میں 6 دن بند رہے ہیں ۔ یہ پورے اکیڈمک ایئر کے نقصان کی طرف بڑھ گیا ہے۔ انڈیا اسپیڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق 8 جولائی 2016 سے تعلیمی ادارے 197 دن میں صرف 80 دن ہی کھلے ہیں ۔

طالبات نے بھی کی پتھر بازی

وہیں اپریل میں پہلی مرتبہ یہ دیکھنے کو ملا کہ اسکول کی طالبات سیکورٹی اہلکاروں پر پتھر بازی کررہی ہیں۔ حزب کمانڈر برہان وانی کی موت کے بعد سے اب تک 150 لوگوں کی موت ہو گئی۔ وہیں 20 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے۔ وہیں سینکڑوں لوگوں کی آنکھیں چلی گئیں ۔

دوپہر میں ہی اسکول سے واپس آجاتے ہیں طلبہ

پلوامہ میں کلاس 10 میں پڑھنے والے رئیس باسر کہتے ہیں کہ چند سال پہلے شام تک اسکول سے لوٹنا عام بات تھی، لیکن اب وہ دوپہر تک اسکول سے واپس آ جاتے ہیں۔ مرکزی وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق سال 2016 میں 2690 مرتبہ پتھر بازی کی واردات ہوئی۔ ہر واقعہ کے بعد احتیاطی طور پرسب سے پہلے اسکول و کالج بند کئے گئے ۔

اسکول اور کالج میں بھی مظاہرہ

اب اسکول اور کالج بھی مظاہرہ کی جگہ بن گئے ہیں۔ سال رواں اپریل میں لوکل پولیس نے پلوامہ میں مظاہرہ کر رہے طلبہ پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے، جس میں 60 سے زیادہ طلبہ زخمی ہو گئے، جن میں زیادہ تر لڑکیاں تھی۔ اس کے بعد وادی کے ہزاروں طلبہ غصے سے بھڑک اٹھے اور پھر پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا کہ وادی کے اسکول کی لڑکیوں کے ہاتھوں میں بھی پتھر تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز