قانون کے مطابق ایس سی/ ایس ٹی ریزرویشن سے اقلیتی تعلیمی ادارے مستثنیٰ ہیں: ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان

Jul 04, 2018 07:42 PM IST | Updated on: Jul 04, 2018 07:47 PM IST

نئی دہلی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایس سی / ایس ٹی ریزرویشن کے مطالبات کے درمیان سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور اے ایم یو طلبہ یونین کے سابق صدرایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے نیوز 18 سے ٹیلیفون پر بات چیت میں کہا کہ اے ایم یو ایک اقلیتی تعلیمی ادارہ ہے، اس میں ایس سی / ایس ٹی کو ریزرویشن دیئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کا تعلق ہے، تو یہ بات صحیح ہے کہ ان دونوں اداروں کے اقلیتی کردار کا مسئلہ عدالت میں زیر التوا ہے، مگر انہیں عدالتوں نے ان دونوں اداروں کے تعلق سے اسٹیٹس کو بحال کررکھا ہے۔ اس لئے ابھی کوئی بھی ترمیم ہرگز نہیں کی جاسکتی ہے۔

قانون کے مطابق ایس سی/ ایس ٹی ریزرویشن سے اقلیتی تعلیمی ادارے مستثنیٰ ہیں: ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان

ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان: فائل فوٹو

ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس جی بالا کرشنن اور جسٹس ڈی کے جین پر مشتمل بینچ نے 24 اپریل  2006 کے اپنے آرڈر کے ذریعہ اسٹیٹس کو کا حکم صادر کیا ہے اور الہ آباد کے فیصلے کو اسٹے دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اے ایم یو میں روز اول سے ہی ایس سی/ ایس ٹی کو ریزرویشن نہیں دیا جارہا ہے۔ اسی طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھی ایس سی/ ایس ٹی کو ریزرویشن نہیں ہے بلکہ اقلیتوں کے لئے 50 فیصد سیٹیں مختص ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں میں خود اقلیتوں کو 50 فیصد ریزرویشن کا حق حاصل ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کسی بھی ادارے میں 50 فیصد سے زیادہ کا ریزرویشن نہیں ہوسکتا۔ ایسے میں ایس سی / ایس ٹی کو 22.5 فیصد ریزرویشن کہاں سے دیا جاسکتاہے؟

زیڈ کے فیضان نے مزید کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ریزرویشن کا مطالبہ کیا جانا حکومت اور اس کے لیڈران کی بد نیتی پر مبنی ہے۔ آنے والے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر اس طرح کی باتیں کی جارہی ہیں۔ میرا مطالبہ ہے کہ حکومت میں بیٹھے لوگ اس طرح کی فرقہ وارانہ ماحول بناکرووٹوں کی صف بندی نہ کریں، کیونکہ یہ ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز