رام ولاس ویدانتی کا علی الاعلان اعتراف ، میرے کہنے پر گرایا گیا تھا ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ

Apr 21, 2017 01:30 PM IST | Updated on: Apr 21, 2017 01:30 PM IST

نئی دہلی : بی جے پی کے سابق ممبر پارلیمنٹ اور بابری انہدام کیس کے ملزم ڈاکٹر رام ولاس داس ویدانتی نے نیا داؤ کھیلتے ہوئے سینئر بی جے پی لیڈر لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، ونے کٹیار کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ ویدانتی نے پورے معاملہ کا الزام اپنے اوپر لیتے ہوئے کہا کہ ان کے اور مہنت اویدھناتھ اور اشوک سنگھل کے کہنے پر 6 دسمبر 1992 کو کارسیوکوں نے ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ گرا دیا تھا۔

ویدانتی نے کہا کہ اس وقت لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، ونے کٹیار سمیت دیگر ملزم بی جے پی اور وی ایچ پی کے رہنما کارسیوکوں کو اکسا نہیں رہے تھے، بلکہ وہ انہیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ویدانتی نے کہا کہ میں نے، مہنت اویدھناتھ اور اشوک سنگھل نے ہی کارسیوکوں کو اکساتے ہوئے کہا تھا کہ ایک دھکا اور دو، بابری گرا دو۔ انہوں نے کہا کہ وہاں پر کوئی مسجد نہیں تھی، صرف ایک متنازعہ ڈھانچہ تھا ، جسے ان کے کہنے پر کارسیوکوں نے گرا دیا تھا۔ خیال رہے کہ ملزم مہنت اویدھناتھ اور اشوک سنگھل کی موت ہو چکی ہے۔

رام ولاس ویدانتی کا علی الاعلان اعتراف ، میرے کہنے پر گرایا گیا تھا ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ

جمعہ کو ویدانتی کا آیا یہ بیان بی جے پی اور وی ایچ پی کے سینئر لیڈروں کو بچانے کی ایک کوشش کی طور پر دیکھا جا رہا ہے۔بدھ کو 1992 بابری مسجد انہدام کیس میں سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ بی جے پی کے سینئر لیڈروں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی پر مجرمانہ سازش کا مقدمہ چلایا جائے گا۔ اس صورت میں صرف کلیان سنگھ کو چھوٹ دی گئی ہے ، کیونکہ وہ فی الحال گورنر ہیں۔ تاہم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ وہ استعفی دینے پر غور کر سکتے ہیں۔

بابری انہدام کیس میں 10 ملزموں کے خلاف دفعہ 120 بی کے تحت فوجداری مقدمہ چلایا جائے گا۔ ساتھ ہی اس معاملہ کی سماعت کر رہے ججوں کی منتقلی تب تك نہیں ہوگی ،جب تک سماعت مکمل نہیں ہو جاتی۔ کورٹ نے نام لے کر کہا کہ اڈوانی اور جوشی سمیت 10 لوگوں کے خلاف مقدمہ لکھنؤ کی عدالت میں چلایا جائے گا۔ کورٹ نے اس معاملہ کو جلد ازجلد حل کرنے کے لئے یہ بھی فیصلہ دیا کہ کیس کی روزانہ سماعت کی جائے گی۔ سی بی آئی کو بھی 4 ہفتوں کے اندر اندر کیس رجسٹرڈ کر کے کارروائی شروع کرنی ہوگی۔

بنچ نے کہا کہ دو سال میں کیس کی سماعت مکمل کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی رائے بریلی سے لکھنؤ کیس ٹرانسفر کر دیا گیا ہے ۔ساتھ ہی معاملہ سے وابستہ ججوں کے تبادلے پر روک لگا دی گئی ہے۔ سی بی آئی کو حکم دیا گیا ہے کہ اس معاملہ میں روزانہ ان کے وکیل کورٹ میں موجود رہیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز