اعظم خان نے کہا، اگر یوگی تاج محل کو منہدم کرائیں گے تو میں بھی دوں گا ساتھ

Oct 04, 2017 12:37 PM IST | Updated on: Oct 04, 2017 01:39 PM IST

لکھنئو۔ اترپردیش کے آگرہ میں محبت کی نشانی کے طور پر عالمی شہرت یافتہ تاریخی عمارت تاج محل کو لے کر سیاست کا بازار گرم ہے۔ سیاحتی کتابچہ سے تاج محل کا نام یوگی حکومت کے ذریعہ غائب کر دئیے جانے کے بعد اب اس مسئلہ پر ایس پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعظم خان نے اپنے ہی انداز میں یوگی حکومت پر طنز کسا ہے۔

اپنے متنازعہ بیانات کے لئے مشہور اعظم خان نے تاج محل اور دیگر تاریخی عمارتوں کو ‘ غلامی’ کی نشانی بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ تاج محل کو گرانے کے لئے چلیں گے تو میں بھی ان کے ساتھ چلوں گا۔ اعظم خان نے کہا کہ ایک زمانہ میں تاج محل کو گرانے کی بات چلی تھی۔ یوگی جی اگر اس طرح کا فیصلہ کریں گے تو انہیں ہمارا تعاون رہے گا۔

اعظم خان نے کہا، اگر یوگی تاج محل کو منہدم کرائیں گے تو میں بھی دوں گا ساتھ

سینئر ایس پی لیڈر اور سابق وزیر اعظم خان: فائل فوٹو۔

دراصل، اترپردیش کے سیاحتی محکمہ نے جو کتابچہ جاری کیا ہے اس میں تاج محل کا نام نہیں ہے۔ اس پر ایس پی لیڈر نے کہا کہ یہ اچھی پہل ہے کہ کتابچہ سے تاج محل کا نام غائب ہے۔ قطب مینار، لال قلعہ اور سنسد بھون یہ سب غلامی کی نشانیاں ہیں۔

حالانکہ اس سے قبل یو پی کی کابینہ وزیر ریتا بہوگنا جوشی نے کہا کہ تاج محل ہماری ثقافت، ورثہ اور ترجیح ہے۔ حکومت نے تاج محل کے لئے 156 کروڑ روپئے دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف ان جگہوں کو کتابچہ میں شامل کیا گیا ہے جنہیں سیاحتی مقامات کے طور پر فروغ دیا جانا ہے۔ تاج محل پہلے سے ہی فروغ شدہ سیاحتی مقام ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز