روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے مودی حکومت کی پالیسی حد درجہ افسوسناک : میرواعظ عمرفاروق

Sep 22, 2017 06:05 PM IST | Updated on: Sep 22, 2017 06:05 PM IST

سری نگر: حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق نے میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار کو پوری ملت اور انسانی قدروں پر یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے ایک سنجیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاکھوں لوگوں کو زبردستی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور اگرچہ عالمی سطح پر اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہو رہے مظالم پر شدید احتجاج کیا مگر اس مسئلہ کے حوالے سے حکومت ہندوستان کا رویہ دہرے معیار کا عکاس ہے ۔

میرواعظ جنہیں ریاستی انتظامیہ کی جانب سے مسلسل تین جمعہ تک نظر بند رکھنے کے بعد آج سری نگر کی تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی، نے نمازیوں سے اپنے معمول کے خطاب کے دوران روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے حکومت ہندوستان کی پالیسی کو حد درجہ افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف وہ روہنگیا رفیوجیوں کو غیر قانونی تارکین وطن کہہ رہے ہیں اور ان کو اپنے ملک کے مفاد کے خلاف خطرہ سمجھ رہے ہیں مگر دوسری طرف چکما اور تبت سے آئے تارکین وطن کو پناہ گزین کے نام سے پکارتے ہیں اور انہیں سرکاری سطح پر امداد بھی فراہم کی جاتی ہے جبکہ دونوں طرح کے لوگ مصیبت زدہ ہے تو پھر ان دونوں کے حوالے سے امتیازی پالیسی کیوں؟

روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے مودی حکومت کی پالیسی حد درجہ افسوسناک : میرواعظ عمرفاروق

میرواعظ نے روہنگیامسلمانوں کے تئیں حکومت ہندوستان کے دوہرے معیار کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مصیبت زدہ لوگوں کو دہشت گردی سے جوڑنا کسی بھی طرح جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور محض مذہب کو بنیاد بنا کر ان لوگوں کے ساتھ نا روا سلوک انسانیت اور انسانی قدروں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑے ملک کی حیثیت سے حکومت ہندوستان کو ان رفیوجیوں کے تئیں انسانی ہمدردیوں سے عبارت رویہ اختیار کرنا چاہئے تاکہ وہ بحفاظت اپنے وطن واپس جاسکیں۔

میرواعظ نے کہا کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے حالیہ وزرائے خارجہ اجلاس جو اقوام متحدہ کے صدر دفتر پر منعقد ہوا میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جو قراردادیں پاس کی ہیں اس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اگر چہ مذکورہ اجلاس میں شرکت کے لئے مجھے باضابطہ دعوت نامہ ملا تھا مگر حکومت ہند کی جانب سے سفری دستاویزات کی عدم فراہمی کی وجہ سے مذکورہ اجلاس میں شرکت نہیں کرسکا۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی نے مسئلہ کشمیر اور کشمیری عوام کی حق خودارادیت کے حوالے سے جو واضح موقف اختیار کیا ہے وہ ہمارے لئے کافی حوصلہ افزا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام ہمیشہ اس بات کے متمنی رہے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کو اپنے تعلقات بہتر بنانے چاہیں اور مسئلہ کشمیر سمیت جملہ حل طلب مسائل کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہندوستان کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ طاقت، قوت، اور فوجی تسلط کے بل پر اس مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا ،کشمیر ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے اور ہندوستان کی سیاسی قیادت کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی چاہئے۔

میرواعظ نے کہا کہ دونوں ہمسایہ جوہری مملکتوں کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے اپنے کروڑوں عوام کے محفوظ مستقبل کے بارے میں مسئلہ کشمیر سمیت جملہ مسائل کے حل کے لئے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہئے ۔ انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم خاقان عباسی کی اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران کشمیریوں کی جائز جدوجہد کی بھر پور حمایت اور جموں وکشمیر میں ہو رہی حقوق انسانی کی پامالیوں پر تشویش کے حوالے سے دیے گئے بیان پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل تلاش کرنے کے بجائے اس مسئلہ کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کے لئے مسئلہ سے جڑے سبھی فریقین کے درمیان بامعنی مذاکراتی عمل کی بحالی کے لئے اقدامات اٹھائیں۔

حریت چیئرمین نے کشمیری سماج میں پھیل رہی برائیوں ، بدعات، رسومات بد اور اسراف و فضول وخرچی کے بڑھتے ہوئے رحجان کو پوری کشمیری قوم کیلئے ایک لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ عنقریب دینی ،سماجی اور اصلاحی تنظیموں کا ایک اجلاس بلایا جائے گا جس میں سماجی انحطاط کے سدباب کے لئے ممکنہ اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان مذکورہ سماجی برائیوں کے خلاف سماجی اصلاحاتی مہم چلائی جائے گی جس میں تمام علاقوں کی مساجد اور اصلاحی کمیٹیوں کا تعاون طلب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومتی اعلانات اور اقدامات کے منتظر رہنے کے بجائے سماجی بدعات کے خاتمے کے حوالے سے ہم پر جو اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہیں ان کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز