Live Results Assembly Elections 2018

کشمیر کی سیاسی صورتحال حد درجہ مخدوش اور اذیت ناک : علاحدگی پسند لیڈر میرواعظ عمر فاروق

حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق نے جموں وکشمیر کی سیاسی صورتحال کو حد درجہ مخدوش اور اذیت ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ہر طرف ظلم ، جبر، مار دھاڑ، پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری ہے ۔

Nov 10, 2017 07:47 PM IST | Updated on: Nov 10, 2017 07:47 PM IST

سری نگر: حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق نے جموں وکشمیر کی سیاسی صورتحال کو حد درجہ مخدوش اور اذیت ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ہر طرف ظلم ، جبر، مار دھاڑ، پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری ہے ۔ جنوبی کشمیر ہو یا وسطی کشمیرہر جگہ یہاں کے نوجوانوں کو جس طرح سرکاری سطح پر شدید ظلم و زیادتی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ عالمی برادری خصوصاً انسانی حقوق اور انسانی اور جمہوری قدروں پر یقین رکھنے والے اقوام کے لئے چشم کشا ہے ۔

میرواعظ نے سری نگر کی تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ سے قبل نمازیوں کے ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جموں وکشمیر اور بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں مقید کشمیری سیاسی نظر بندوں کی حالت زار اور جیل حکام کی جانب سے ان کے ساتھ روا رکھے جارہے مبینہ غیر انسانی سلوک کو حد درجہ افسوسناک قرار دیتے ہوئے حقوق بشر کے عالمی اداروں ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ایشیا واچ، اور آئی سی آر سی سے اپیل کی کہ وہ بذات خود ان جیلوں کا دورہ کرکے وہاں مقید قیدیوں کی ناگفتہ بہہ حالت کا جائزہ لیں۔

کشمیر کی سیاسی صورتحال حد درجہ مخدوش اور اذیت ناک : علاحدگی پسند لیڈر میرواعظ عمر فاروق

میراعظ نے کہا کہ کٹھوعہ ، ادھم پور، جموں اور تہاڑ جیل میں مقید کشمیری سیاسی نظر بندوں کو اذیت ناک صورتحال کا سامنا ہے ، بہت سے نوجوانوں کو سیلوں میں رکھ کر اذیتیں دی جارہی ہیں۔ تہاڑ جیل میں مقید مزاحمتی رہنماؤں اور کارکنوں کو عادی مجرموں کے ساتھ رکھا گیا ہے جو ان کو ذہنی اور نفسیاتی اذیتیں دے رہے ہیں۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا ’ کیا کشمیری قیدیوں کے حقوق نہیں ہیں؟ باوجود اس کے کہ یہ لوگ پیشہ ور مجرم نہیں بلکہ سیاسی قیدی ہیں اس کے باوجود ان لوگوں کو جنیوا کنونشن کے تحت حاصل طبی ،اور دیگر سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے‘۔ میرواعظ نے ان قیدیوں کے تئیں حکومتی اداروں کے غیر انسانی اور غیر اخلاقی سلوک کو حد درجہ افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے قیدی ایسے ہیں جن کی مدت قید مکمل ہوئی ہے لیکن ایک طرف ان کے خلاف عائد پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) ختم ہو جاتا ہے لیکن فوراً دوسرے فرضی مقدمے میں ان کو ملوث کرکے پابند سلاسل کیا جارہا ہے اور اس طرح جان بوجھ کر ان کی مدت قید کو بلا وجہ طول دیا جارہا ہے۔

میرواعظ نے مختلف جیلوں میں مقید کشمیری سیاسی نظر بندوں بشمول شبیر احمد شاہ، ایڈوکیٹ شاہد الاسلام، الطاف احمد فنتوش، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال ، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار اور تاجر ظہور وٹالی، مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر محمد قاسم،محترمہ آسیہ اندرابی،فہمیدہ صوفی،محمد شفیع خان،عاقب احمد، غلام احمد گلزار، محمد یوسف میر، غلام جیلانی، فاروق احمد ڈگہ، محمد صدیق گنائی، مظفر احمد وغیرہ اور سینکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کو بلا وجہ جیلوں میں مقید رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز