سری نگر : تاریخی جامع مسجد میں توبہ و استغفار کی مجلس ، میرواعظ نے کہا : جنوبی کشمیر وار زون میں تبدیل

Aug 25, 2017 07:51 PM IST | Updated on: Aug 25, 2017 07:51 PM IST

سری نگر: حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق نے شمالی ضلع کپواڑہ کے تارت پورہ میں ایک مبینہ فرضی جھڑپ کے دوران فوج کے ہاتھوں ایک جواں سال طالب علم کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف جنوبی کشمیر میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز کے تحت مار دھاڑ، پکڑ دھکڑ اور ہراسانیوں کا سلسلہ جاری ہے اور پورے جنوبی کشمیر کو ایک وار زون میں تبدیل کردیا گیا ہے تو دوسری طرف زیر حراست اور فرضی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور اگر کشمیریوں کے قتل عام کا یہ سلسلہ بند نہیں ہوا تو کشمیری عوام کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہے گا کہ وہ ایک مربوط اور مرتب احتجاج کا سلسلہ شروع کریں۔

میرواعظ نے سری نگر کی مرکزی و تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے قتل ناحق کے واقعات کی سرکاری سطح پر تحقیقات کے بلند بانگ دعوے ہوتے رہے ہیں لیکن جب یہی لوگ قاتل ہوں، یہی منصف ہوں اور یہی گواہ تو کشمیری عوام انصاف کی امید کس سے رکھیں اور مژھل فرضی انکاؤنٹر کا واقعہ اس کی مثال ہے جس میں ملوث مجرمین کو رہا کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی جان اتنی سستی نہیں ہے کہ ان کے دام لگائے جا سکیں ۔ اپنے معمول کے خطاب سے قبل میرواعظ نے جامع مسجد میں اجتماعی توبہ و استغفار کی مجلس کی پیشوائی کی۔

سری نگر : تاریخی جامع مسجد میں توبہ و استغفار کی مجلس ، میرواعظ نے کہا : جنوبی کشمیر وار زون میں تبدیل

انہوں نے آپریشن جامع مسجد کے 28 سال مکمل ہونے پر کہا کہ اس آپریشن کا واحد مقصد اس وقت کی قیادت خصوصاً شہید ملت میرواعظ مولانا محمد فاروق کو خوفزدہ کرنا تھا تاکہ وہ کشمیریوں کی حق و انصاف سے عبارت تحریک کی ترجمانی کرنے سے باز رہیں ۔انہوں نے کہا کہ آپریشن جامع مسجد کے بعد کشمیر کے دیگر مذہبی اور مقدس مقامات جن میں آثار شریف حضرت بل ، چرار شریف، خانقاہ فیض پناہ ترال،آستانہ عالیہ خانیار وغیرہ شامل ہیں کی بے حرمتی کا مقصد مسلمانوں کی وحدت اور اجتماعیت کو کمزور کرنا تھا لیکن وقت نے ثابت کردیا کہ جامع مسجد کو بار بار بند کرنے سے اور ان تمام سازشوں کے باوجود جامع مسجد کے منبر و محراب جو صدیوں سے کشمیری عوام کی دینی اور سیاسی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہے ہیں کسی بھی قیمت پر ہم حق و صداقت کی آواز بلند کرنے سے باز نہیں رہ سکتے۔

میرواعظ نے کہا کہ قال اللہ وقال رسول (ص) کا فریضہ ہو یا کشمیری عوام کی سیاسی ، سماجی اور مذہبی حقوق کی ترجمانی ہو ، یہ منبر ومحراب یہاں کے عوام کی ہر سطح پر ترجمانی کا فریضہ ادا کرتا رہے گا اور سرکاری ہتھکنڈے نہ ماضی میں ہم کو خوفزدہ کرسکے ہیں اور نہ آئندہ ہمیں یہ فریضہ ادا کرنے سے روک سکتے ہیں۔ اس سے قبل میرواعظ نے اجتماعی توبہ و استغفار کی مجلس کی پیشوائی کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک عرصے سے مسلمانان کشمیر گوناگوں مسائل اور مشکلات اور آلام سے دوچار ہیں خاص طور پر شب قدر کی مقدس اور بابرکت رات میں جامع مسجد کے باہر اپنی نوعیت کاجو دلخراش اور افسوسناک سانحہ پیش آیا جس میں ڈی ایس پی مرحوم محمد ایوب پنڈت جاں بحق ہوئے کے تناظر میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں استغفار ، توبہ، اور اسے راضی کرنے کے لئے کلی طور پر اپنی غلطیوں اور خامیوں کا اعتراف وقت اور حالات کا ناگزیر تقاضا بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہمارا واحد سہارا ہے جس کی مدد اورنصرت کے بغیر زندگی کے کسی مرحلے پر کامیابی کا ہرگز تصور نہیں کیا جاسکتا۔ میرواعظ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گناہوں کے اعتراف کے ساتھ سربسجود ہوکر ہی ہم اس کی رضا اور خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس مرحلے پر انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھے گئے جب لوگوں نے جس میں خواتین کی بھاری تعداد بھی شامل تھی گڑ گڑا کراشک بار آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کرکے ان سے معافی اور مغفرت طلب کی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز