امت مسلمہ کے مسائل کی بنیادی وجہ اللہ اور رسول کی تعلیمات سے دوری : علاحدگی پسند لیڈر میرواعظ عمر فاروق

Nov 22, 2017 09:51 PM IST | Updated on: Nov 22, 2017 09:51 PM IST

سری نگر: حریت کانفرنس (ع) چیئرمین و متحدہ مجلس علماء جموں وکشمیرکے امیر اعلیٰ میرواعظ مولوی عمر فاروق نے پیغمبر اسلام (ص) کے اسوۂ کاملہ کی پیروی کو نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری نوع انسانی کے جملہ مسائل اور مشکلات کا حل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج اگر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مسلمان ایک پر آشوب حالات اور مختلف قسم کی سیاسی اور سماجی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسول (ص) کی تعلیمات سے دوری ہے ۔

ماہ ربیع الاول کی آمد کے موقع پر معروف ولی کامل اور عظیم روحانی پیشوا حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی(رح) کے عرس پاک کے سلسلے میں یہاں ان کی زیارت گاہ نقشبند صاحب کی خانقاہ فیض پناہ میں خوجہ دگر کے موقعہ پر منعقدہ ایک روحانی اور پروقار مجلس کے دوران ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس عظیم ولی کامل کی زندگی ، ان کی عظیم تعلیمات اور انسانی سماج کے تئیں ان کی خدمات کے نتیجے میں گرانقدر اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول (ص) کے ہدایات اور اولیائے کرام اور بزرگان دین کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا عملی حصہ بنانے سے ہی ہم موجودہ نفسانفسی کے عالم ،مادیت کی وبا اور سماجی برائیوں کے انسداد کی ہمہ گیر اصلاحی مہم کو نتیجہ خیز بناسکتے ہیں ۔

امت مسلمہ کے مسائل کی بنیادی وجہ اللہ اور رسول کی تعلیمات سے دوری : علاحدگی پسند لیڈر میرواعظ عمر فاروق

میرواعظ نے کہا کہ حضرت خواجہ صاحب نہ صرف تصوف کے چاروں سلسلے میں سے ایک اہم’’ سلسلہ نقشبندیہ ‘‘کے بانی و مبانی ہیں بلکہ بذات خود ایک انتہائی بلند پایہ صوفی اور خدا دوست ولی کامل ہیں جن کی پوری زندگی تصوف اور سلوک کی راہ طے کرنے میں گذری اور ان کی ذات گرامی سے خلق خدا کو بیحد نفع اور فیض پہنچا۔ مسٹرمیرواعظ نے کہا کہ ایک اسلامی اور فلاحی معاشرے کی تعمیر محض زبانی جمع خرچ اور نعروں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے قرآن و سنت کو بنیاد بنا کر ایک ہمہ گیر اصلاحی اور دعوتی مہم جوئی کی ضرورت ہے اور ایک دیندار معاشرہ وجود میں لانے کے لئے اجتماعی کوششیں ایک ناگزیر امر ہے اور اس کے لئے جناب پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) کی لافانی تعلیمات جنہیں اولیائے کرام اور صوفیائے عظام نے پوری دنیا میں اپنے اپنے دور میں پھیلانے کی کوششیں کیں ان پر صدق دلی سے عمل بیحد ضروری ہے ۔

میرواعظ نے کہا کہ دین اسلام بنیادی لحاظ سے تبلیغ اور تعلیم کا دین ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ تبلیغ اور تعلیم کے نتیجے میں ہی یہ آفاقی دین دنیا کے بیشتر گوشوں کو منور کرنے لگا اس دین میں کوئی جبر اور زور زبردستی نہیں ہے اور اس کی تعلیمات میں تمام مذاہب اور مسالک کی عزت کرنا اور بلا امتیاز انسانیت کا احترام شامل ہے۔ انہوں نے کہا آج کے پُر آشوب حالات میں صوفیائے اسلام کی خدا پرستی، انسان دوستی اور حب الوطنی کی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی اشدضرورت ہے کیونکہ صوفیائے اسلام نے اپنے اپنے وقت میں انسانیت کو جوڑنے کا کام کیا ہے اور اپنی بے نفسی اور خدمت خلق کے عظیم جذبے کے تحت ہر دور میں انسانیت کو فلاح اور امن و آشتی سے ہمکنار کیا ہے۔ آخر میں اجتماعی طور پر حضرت نقشبند صاحب کے تئیں منقبت خوانی کی گئی اور غلبہ اسلام، اولیائے کرام کے مشن کی آبیاری اور شہدائے جموں وکشمیر کے درجات کی بلندی کے لئے بارگاہ خداوندی میں خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔میرواعظ نے مشہور خواجہ دِگر یعنی نماز عصر کی بھاری جماعت میں بھی شرکت کی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز