کشمیری خواتین کے خلاف حملوں کا واحد مقصد ہمیں خوف زدہ کرنا ہے : یاسین ملک

جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے خواتین کی جبری بال تراشی کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری خواتین پر ہورہے حملوں کا واحد مقصد ہمیں خوف زدہ کرنا ہے۔

Oct 17, 2017 08:20 PM IST | Updated on: Oct 17, 2017 08:20 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے خواتین کی جبری بال تراشی کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری خواتین پر ہورہے حملوں کا واحد مقصد ہمیں خوف زدہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس اذیت کا مقابلہ انتہائی دانشمندی اور تدبر کے ساتھ کرنا ہوگا۔ یاسین ملک نے ان باتوں کااظہار منگل کے روز وسطی کشمیر کے چرار شریف میں حضرت شیخ العالم نور الدین نورانی (رح) کے عرس کے موقع پر وہاں موجود ہزاروں عقیدتمندوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا ’دو ماہ سے ہماری ماؤں بہنوں بچیوں اور بیٹیوں پر حملے ہورہے ہیں لیکن نا معلوم دشمن کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے۔ ہمارا سماج لگاتار خوف و دہشت کے عالم میں ہے لیکن حکمران،ان کی پولیس اور انتظامیہ بے حس اور بے بس نظر آرہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ گویا انہیں کچھ معلوم ہی نہیں ہے۔کوئی اسے اجتماعی پاگل پن سے تعبیر کرکے اپنا پلو جھاڑ رہا ہے تو کوئی اسے محض مفروضہ قرار دے کر اس سے پہلو تہی برت رہا ہے‘۔

کشمیری خواتین کے خلاف حملوں کا واحد مقصد ہمیں خوف زدہ کرنا ہے : یاسین ملک

جے کے ایل ایف چیئرمین نے کہا کہ آج تک ہماری سینکڑوں مائیں بہنیں نامعلو م دشمن کے حملے کا شکار ہوچکی ہیں لیکن وہ پولیس جو نقاب پہنے پتھر مارنے والوں کو فوراً نشاندہی کرکے جیلوں میں ڈال دیتی ہے، جو ہر حملے اور ہر عمل کے پیچھے کارفرما غائب ہاتھوں کو ایک لمحے کے اندر تشت از بام کرنے کا دعویٰ کرتی پھرتی ہے اور برق رفتاری کے ساتھ پرامن سیاسی کاوشوں کو تتر بتر اور سیاسی لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے کا فریضہ انجام دیتی پھرتی ہے ان مذموم حملوں کے پیچھے ہاتھوں کو سامنے لانے میں ناکام اور بے بس نظر آرہی ہے اور پولیس اور حکام کی یہ بے حسی اور بے بسی دراصل اس سارے معاملے کی مشکوکیت میں مزید اضافہ کئے دیتی ہے۔

یاسین ملک نے کہا کہ بال کاٹنے کے اس مذموم کام کو روکنے کے لئے ہمیں محلوں ،گاؤں جات اور سوسائٹی کی حد تک متحرک اور منظم نگرانی کا عمل تیز تر کرنا چاہئے لیکن ایسا کرتے ہوئے ہمیں ہوشیاری اور تحمل و تدبر کا ہاتھ دامن نہیں چھوٹنے نہیں دینا چاہئے۔ ہم مجرمین کو قابو کرتے ہوئے خود بے قابو بھیڑ نہیں بن سکتے نا ہی ہمیں بال تراشی کی آڑ میں سماج کو انتشار و افتراق کی جانب دھکیلنا چاہئے کیونکہ ایسا کرکے ہم اپنے چھپے دشمن کی ہی مدد کریں گے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز