دفعہ 35 اے کیس کی سماعت موخر ہونے کے بعد علاحدگی پسندوں نے احتجاجی کلینڈر لیاواپس

Aug 25, 2017 04:59 PM IST | Updated on: Aug 25, 2017 04:59 PM IST

سری نگر: عدالت عظمیٰ کی جانب سے دفعہ 35 اے سے متعلق مقدمے کی سماعت دیوالی کے تہوار تک موخر کرنے کے بعد کشمیری علیحدگی پسند قیادت نے اس سلسلے میں جاری کردہ احتجاجی کلینڈر واپس لے لیا ہے۔ خیال رہے کہ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی ، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت دفعہ 35 اے کے دفاع کے لئے 23 اگست کو باضابطہ طور پر احتجاجی مہم کا اعلان کیا۔

انہوں نے 29 اگست جس دن دفعہ 35 اے کے معاملے کی سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والی تھی، کو پورے جموں کشمیر میں ایک روزہ ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی کال دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر سپریم کورٹ نے اس حوالے سے کوئی بھی منفی فیصلہ سنایا تواسی لمحے سے ایک ہمہ گیر عوامی ایجی ٹیشن کا بھی آغاز کیا جائے گا۔ مسٹر گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے جمعہ کو یہاں جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا ’اسٹیٹ سبجیکٹ قانون (دفعہ 35 اے) کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جو کیس دائر ہے‘اس پر سماعت فی الحال دیوالی تک موخر کردی گئی ہے۔ یہ کیس 29 اگست کو سنا جارہا تھا اور اسی تناظر میں ہم نے ایک مربوط احتجاجی پروگرام کا اعلان کررکھا تھا۔ چونکہ سپریم کورٹ میں اب یہ کیس فی الحال نہیں سنا جائے گا اس لئے اعلان شدہ احتجاجی پروگرام کو بھی فی الحال ملتوی کیا جارہا ہے‘۔

دفعہ 35 اے کیس کی سماعت موخر ہونے کے بعد علاحدگی پسندوں نے احتجاجی کلینڈر لیاواپس

کشمیر میں فوج: فائل فوٹو۔

بیان میں کہا گیا’ اس حوالے سے جملہ پروگراموں کے ساتھ ساتھ منگلوار 29 اگست کے روز مجوزہ احتجاجی ہڑتال بھی فی الحال ملتوی کردی گئی ہے‘۔ علیحدگی پسند قیادت نے بیان میں کہا ’ جموں کشمیر میں نافذ اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کا بنیادی مقصد جموں کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے اور چونکہ یہ مسئلہ براہ راست ہمارے حق خود ارادیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے اس لئے ہم سبھی پر لازم ہے کہ اتحاد اور پامردی کے ساتھ اس کا دفاع کریں‘ ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز