جموں و کشمیر میں القاعدہ یا داعش کی دستک انتہائی خطرناک : کشمیری علاحدگی پسند قیادت

Jul 28, 2017 08:42 PM IST | Updated on: Jul 28, 2017 08:42 PM IST

سری نگر: کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے جموں کشمیر کی حدود میں داعش یا القاعدہ کے رول کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں القاعدہ کی طرف سے دستک دینا انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے یہ بات ظاہری طور پر عالمی شدت پسند تنظیم القاعدہ کی طرف سے کشمیری جنگجو کمانڈر ذاکر موسیٰ کو’کشمیر لنک‘ کا سربراہ چنے جانے سے متعلق میڈیا رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی ہے۔ علیحدگی پسند قیادت نے جمعہ کو یہاں اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ’کشمیریوں کی جدوجہد آزادی خالصتاً ایک مقامی تحریک ہے اور ہماری جدوجہد کا پہلا اور آخری ہدف ہندوستان کے قبضے سے آزادی پانا ہے اور اس کا عالمی تحریکوں کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہندوستان کے پالیسی ساز اداروں اور خفیہ ایجنسیوں نے ہماری تحریک کو بدنام کرنے اور اس کے مقامی کردار کو ختم کرنے کے لیے ایک خطرناک منصوبہ ترتیب دیا ہے اور اس کے تحت یہاں کے بعض افراد کو استعمال میں لاکر کارروائیاں انجام دینے کا پروگرام بنایا گیا ہے، جن کا مسئلہ کشمیر کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور نہ حقیقتاً ان کا یہاں کوئی وجود پایا جاتا ہے‘۔

مسٹر گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے کہا ’ جموں کشمیر کی تحریک آزادی خالصتاً مقامی اور علاقائی جدوجہد کے تناظر میں چلنے والی تحریک ہے اور دنیا کے امن پسند اور انصاف پسند اقوام نے بھی جموں کشمیر کی متنازعہ مسلمہ حیثیت کو تسلیم کیا ہوا ہے اور ہم اس متنازعہ مسئلے کو پُرامن ذرائع سے حل کرنے کے خواہاں اور خواہشمندہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک القاعدہ یا داعش کا تعلق ہے انہوں نے جہاد اور شریعت کے نام پر پوری دنیا میں مسلمانوں کا ہی قتل عام کیا ہے اور کہیں پر بھی انہوں نے کسی غاصب اور قابض کے خلاف کوئی جدوجہد نہیں کی اور ناہی کسی جگہ پر وہ شریعت نافذ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

جموں و کشمیر میں القاعدہ یا داعش کی دستک انتہائی خطرناک : کشمیری علاحدگی پسند قیادت

علیحدگی پسند قائدین نے کہا کہ جہاں تک ان تنظیموں کا تعلق ہے ان کی کارروائی سے مسلمانوں کو ہی خمیازہ بھگتنا بڑا ہے اور جہاں کہیں بھی مسلمان اپنے حقوق کے لیے لڑرہے تھے ان تنظیموں نے ان ہی مظلوموں کا قتلِ عام کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا ’شام، عراق، افغانستان، سیریااس کی زندہ مثالیں ہیں جہاں خواتین اور معصوم بچوں کے لاشوں کے ڈھیر لگادئے گئے اور ان کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز