سید علی شاہ گیلانی کے بیٹا کو این آئی اے نے پھر طلب کیا دہلی ، علاحدگی پسند لیڈروں نے بتایا انتقامی کارروائی

Dec 24, 2017 09:24 PM IST | Updated on: Dec 24, 2017 09:25 PM IST

سری نگر: حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) چیئرمین محمد یاسین ملک نے بزرگ علیحدگی پسند راہنما و حریت (گ) چیئرمین سید علی گیلانی کے فرزند سید نسیم گیلانی کو قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے دوبارہ نئی دہلی طلب کئے جانے کو انتقامی کارروائی اور خوف زدہ کرنے کا مذموم عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ غنڈہ گردی کے ذریعے مذاکرات پر مجبور کرنا مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی علیحدگی پسند قائدین ، کاروباری شخصیات،صحافیوں،اور دوسرے لوگوں جن میں سید شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ،شاہد الاسلام،ایاز اکبر،پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان،فاروق احمد ڈار،ظہور احمد وٹالی،کامران یوسف،جاوید احمد اور شاہد یوسف شاہ وغیرہ قابل ذکر ہیں کو گرفتار کرکے تہاڑ جیل دہلی میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ حکمرانوں نے اپنے کشمیری گماشتوں اور این آئی اے و ای ڈی جیسی ایجنسیوں کو استعمال کرکے سینکڑوں کشمیریوں جن میں سیاسی اراکین،کاروباری شخصیات، مزاحمتی قائدین سے وابستہ دوست و احباب، رشتہ داروں جن میں سید علی شاہ گیلانی کے دونوں بیٹے بھی خاص طور پر قابل ذکر ہیں ،کو دہلی طلب کیا اور نہ صرف یہ کہ ان کا وقت برباد کیا بلکہ ان کا ٹارچر کرنے نیز انہیں تنگ طلب کرنے اور حقارت آمیز سلوک کو برداشت کرنے پر بھی مجبور کیا۔

میرواعظ اور یاسین ملک نے کہا کہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ دوست و احباب اور رشتہ ادروں کو دہلی طلب کرنے اور ذہنی و جسمانی اذیت دینے ،درجنوں افراد کو مضحکہ خیز کیسوں میں ڈال کر مختلف جیلوں خاص طور پر تہاڑ جیل میں مقید کرنے کا مکروہ عمل دراصل بھارتی حکمرانوں، ان کے کشمیری مددگاروں اور ایجنسیوں کا وطیرہ بن چکا ہے اور یہ لوگ ان مذموم کاوشوں کے ذریعے مزاحمتی قائدین اورکشمیریوں کو گھٹنوں کے بل لاکر شکست دینے اور خوف زدہ کرکے اپنے نامزد مذاکرات کار کے ساتھ گفت و شنید کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے برس کے ماہ فروری سے آج تک قریب ایک برس کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران این آئی اے اور ای ڈی کی دھمکی آمیز غنڈہ گردیاں سرگرمی کے ساتھ جاری و ساری ہیں۔

سید علی شاہ گیلانی کے بیٹا کو این آئی اے نے پھر طلب کیا دہلی ، علاحدگی پسند لیڈروں نے بتایا انتقامی کارروائی

اس دوران صحافیوں، معزز وکلاء اور دانشوروں، سرکردہ سماجی و کاروباری شخصیات،سیاسی قائدین و اراکین یہاں تک کہ کمسن بچوں اور طلباء تک کو بار بار دہلی طلب کرنا، ان کا انٹروگیشن کرنا، ان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اپنا کر انہیں خوف زدہ کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ جوزف گوبلز کے سکھائے ہوئے جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے عوامی قیادت کو بدنام کرنے اور پوری تحریک آزادی کو دوسروں کی ایماء پر چلائی جانے والی دہشت گردی قرار دینا اور اس کام کے لئے جانب دار بھارتی میڈیا خاص طور پر میڈیا چینل استعمال کرنا، سینکڑوں لوگوں کو بے بنیاد الزامات لگاکر یا نام نہاد تحقیقات کے نام پر مختلف جیلوں خاص طور پر تہاڑ جیل دہلی میں ڈال دینا‘ بھارتی استعمار کا مشغلہ رہا ہے۔ ان مذموم کاوشوں کا ایک طرف تو یہ مقصد ہے کہ کشمیریوں کو باطل ، ظلم ، استبدا اور ناجائز تسلط کے خلاف مزاحمت سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جائے اور دوسری طرف انہیں نام نہاد بات چیت کے عمل میں شریک ہونے پر بھی مجبور کرکے دنیا کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکی جاسکے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز