کشمیر: علیحدگی پسندوں کے احتجاجی پروگرام کو ناکام بنانے کے لئے وادی میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ

Dec 10, 2017 12:38 PM IST | Updated on: Dec 10, 2017 12:38 PM IST

سری نگر: کشمیر انتظامیہ نے علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کشمیر بند، تاریخی لال چوک میں احتجاجی ریلی اور اقوام متحدہ فوجی مبصرین کے دفتر تک مارچ کی کال کے پیش نظر سری نگر کے مختلف حصوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کرکے شہریوں کی نقل وحرکت محدود کردی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شہر میں امن وامان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لئے پائین شہر کے ایم آر گنج، نوہٹہ، صفا کدل، رعناواری ، خانیار اور کرال کھڈ جبکہ سیول لائنز کے مائسمہ ، رام منشی باغ اور کوٹھی باغ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا ’دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت یہ پابندیوں امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے نافذ کی گئی ہیں‘۔ قابل ذکر ہے کہ کشمیری علیحدگی پسند قیادت نے گذشتہ روز 10دسمبر عالمی انسانی حقوق کے دن کے حوالے جاری کردہ پروگرام میں کہا تھا ’10 دسمبر کو انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ڈے کے موقع پر کشمیری مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کریں گے اور شام گئے گھروں میں بلیک آؤٹ کیا جائے گا جبکہ اسی دن لال چوک سری نگر میں متحدہ مزاحمتی قائدین (علیحدگی پسند قائدین) کی سربراہی میں ایک پروقار احتجاجی ریلی بھی برآمد ہوگی جو سری نگر میں موجود اقوام متحدہ کے مقامی آبزرور آفس پر جاکر ایک یادداشت پیش کرے گی‘ ۔

کشمیر: علیحدگی پسندوں کے احتجاجی پروگرام کو ناکام بنانے کے لئے وادی میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ

ان کا الزام ہے کہ کشمیریوں کو بدترین ریاستی تشدد و ٹارچر کا نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن انسانی حقوق کے چمپئن اپنے تجارتی مفادات کی رکھوالی کے لئے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔انتظامیہ نے علیحدگی پسندوں کے پروگرام کو ناکام بنانے کے لئے نہ صرف شہر کے مختلف حصوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کی ہیں، بلکہ حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ سمیت درجن بھر علیحدگی پسند قائدین و کارکنوں کو تھانہ یا خانہ نظر بندکردیا ہے۔

انتظامیہ کے دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیوں کے اطلاق کے برخلاف سبھی پابندی والے علاقوں کی صورتحال اتوار کی صبح سے ہی مخدوش نظر آئی۔ نالہ مار روڑ کو تاربل سے لیکر خانیار تک خارداروں تاروں سے سیل کیا ہوا پایا۔نواح کدل، کاؤ ڈارہ، راجوری کدل، گوجوارہ، نوہٹہ ، بہوری کدل، برابری پورہ اور خواجہ بازار کو جوڑنے والی سڑکوں پر خاردار تار بچھائی گئی ہے۔پابندی والے علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند پائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز