جزب المجاہدین سربراہ سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دیے جانے پر کشمیری علیحدگی پسند قیادت چراغ پا

Jun 28, 2017 11:35 PM IST | Updated on: Jun 28, 2017 11:35 PM IST

سری نگر: کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے متحدہ جہاد کونسل اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو امریکہ کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دینے کو سراسر بلا جواز اور قابل افسوس قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے ’ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہندوستان کی سیاسی قیادت نے1947ء کے بعد سے فوجی قوت اور طاقت کے بل پر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ضد اور ہٹ ھرمی سے عبارت جو پالیسی اختیار کررکھی ہے کشمیر عوام کے جملہ سیاسی ،سماجی ، مذہبی ، انسانی حقوق سلب کرلئے گئے ہیں کشمیری عوام کے زندہ رہنے کے تمام راستے مسدود کرلئے گئے ہیں ، کشمیر کی عسکری تحریک اُسی پالیسی اور ظلم و جبر کا ردعمل ہے‘ ۔

علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے یہاں جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ عالمی برادری اقوام متحدہ، امریکہ اور برطانیہ نہ صرف مسئلہ کشمیر کی حقیقت سے واقف ہیں بلکہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے حوالے سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بامعنی مذاکراتی عمل کی بحالی پر بھی زور دیتے آئے ہیں اور کئی بار دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے بھی پیش کش کرچکے ہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے دباؤ میں آکر حکومت امریکہ کا یہ اقدام ہر لحاظ سے افسوسناک ہے اور امریکہ جو انصاف ، جمہوریت اور انسانی قدروں کا سب سے بڑا دعویدار ہے کس طرح کشمیر میں حقوق بشر کی پامالیوں سے چشم پوشی اختیار کرسکتا ہے۔

جزب المجاہدین سربراہ سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دیے جانے پر کشمیری علیحدگی پسند قیادت چراغ پا

انہوں نے کہا ہے کہ اس دوہرے معیار کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔ خیال رہے کہ امریکہ نے سید صلاح الدین کو گذشتہ روز خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دیا۔ مسٹر گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے بیان میں کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے اور جب تک حق خودارادیت کی بنیادوں پر اس مسئلہ کا حل نہیں کیا جاتا تب تک جموں وکشمیر کے تحریک پسند عوام اور مزاحمتی قیادت حق و انصاف پرمبنی پر امن جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی کودہشت گرد قرار دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا بلکہ اس مسئلہ کو اس کے تاریخی تناظر میں حل کرنے سے ہی ا س پورے خطے سے بے چینی اور غیر یقینی سیاسی صورتحال کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے جس کو عالمی برادری نے تسلیم کیا ہے لہٰذا اس مسئلہ کی حساسیت اور حیثیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس مسئلہ سے جڑے تمام تاریخی حقائق کو نظر میں رکھ کر ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے اس دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے میں مدد مل سکے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز