دہلی پولیس نے سیریل ریپسٹ کو کیا گرفتار، سینکڑوں اسکولی بچیوں کو بنایا شکار

Jan 16, 2017 11:19 AM IST | Updated on: Jan 16, 2017 11:31 AM IST

نئی دہلی۔ دہلی پولیس نے کئی معصوم بچیوں سے جنسی زیادتی کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق سنیل رستوگی نام کا یہ شخص معصوم بچیوں کو بہلا پھسلا كر اپنے ساتھ لے جاتا تھا اور پھر ریپ کی واردات کو انجام دیتا تھا۔ سنیل رستوگی کی عمر 38 سال ہے اور اس کے خاندان میں بیوی اور 5 بچے ہیں۔ سنیل یوپی کے رام پور کا رہنے والا ہے۔

سنیل رستوگی کو آج كڑكڑڈوما کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ پیشے سے درزی سنیل گزشتہ 13 سال سے رام پور سے دہلی این سی آر آکر بچیوں کے ساتھ ریپ کی واردات کو انجام دے رہا تھا۔ پولیس کے مطابق سنیل اب تک تقریبا 600 بار چھیڑ خانی اور درجن بھر سے زیادہ بچیوں کا ریپ کر چکا ہے۔

دہلی پولیس نے سیریل ریپسٹ کو کیا گرفتار، سینکڑوں اسکولی بچیوں کو بنایا شکار

دہلی این سی آر کا سب سے بڑا سیریل ریپسٹ سنیل رستوگی اپنا پورا خاندان ہونے کے باوجود ایک ایسے جرم کا حصہ بن گیا، جسے سن ہر کوئی حیران ہے۔ پیشے سے ٹیلر سنیل رستوگی گزشتہ 4 سال سے رام پور سے ٹرین سے دہلی این سی آر کے سفر پر نکلتا تھا اور اس کے بعد دہلی، نوئیڈا، غازی آباد میں 7 سے 11 سال کی معصوم بچیوں کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ ویران جگہ لے جا کر ان کی عصمت لوٹتا تھا ۔

پولیس کی مانیں تو یہ سلسلہ گزشتہ 4 سال سے مسلسل جاری تھا۔ جب جب سنیل کی ٹیلرنگ کی دکان بند ہوتی وہ اپنے شکار کے لئے نکل جاتا تھا۔ اب تک پولیس یہ بھی پتہ نہیں لگا پا رہی تھی کہ آخر کون معصوموں کی عصمت کو تار تار کر رہا ہے۔ اب تک پولیس کے پاس نہ تو ملزم کی کوئی پہچان تھی اور نہ کوئی چہرہ۔

ایک ہی طرح کا لباس پہنتا تھا

سنیل وقت ملتے ہی رام پور سے ٹرین سے دہلی این سی آر کے مختلف شہروں میں اپنی ہوس کی خوراک کی تلاش میں گھومتا اور موقع ملتے ہی اپنے کام کو انجام دے کر چلتا بنتا۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ گزشتہ چار سال میں جب جب سنیل رستوگي معصوم بچیوں کے ساتھ ریپ اور چھیڑ چھاڑ کی واردات کو انجام دیتا، تب تب ایک ہی کپڑے پہن کر آتا تھا۔ سنیل کے قبول نامے نے پولیس کو بھی حیران کر دیا ہے۔ یہ ایک ہی کپڑے پہن کر ریپ کی واردات کرتا تھا اور ہمیشہ ایک ہی جوتے، ایک ہی جیکٹ پہنتا تھا۔ ایک ہی دن واردات کو انجام دینے کے لئے گھر سے نکلتا تھا اور ایک ہی نمبرکی ٹرین میں سفر بھی کرتا تھا۔

ایسے دیتا تھا واردات کو انجام

پولیس کے مطابق سنیل رستوگي بچوں کو نئے کپڑے دکھاتا تھا اور ان سے کہتا تھا کہ یہ کپڑے ان کے پاپا نے بھیجے ہیں۔  وہ بچوں کو یہ کہہ کر بھی پھسلاتا تھا کہ ان کے پاپا نے ان کو ملنے کے لئے کسی جگہ پر بلایا ہے۔ معصوم بچے اس درندے کی باتوں میں پھنس کر اس کے ساتھ چلنے کو تیار ہو جاتے تھے۔ پھر وہ بچوں کو کسی ویران جگہ پر لے جاتا تھا اور ریپ کرکے وہاں سے فرار ہو جاتا تھا۔

پولیس پوچھ گچھ میں اس سیریل ریپسٹ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ایک ہی کپڑے میں ریپ کی تمام واردات کو انجام دے چکا ہے۔ ایک ہی جوڑے کے اس کپڑے سے سنیل کو ایک خاص لگاؤ ​​تھا۔ انہی کپڑوں کی ایک مہک سنیل کو  وحشی بننے پر مجبور کرتی تھی۔ بہت دفعہ سنیل اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوا۔ وہ اپنے ساتھ چھوٹے بچوں کے نئے کپڑے رکھتا تھا۔ بچوں کو بہلانے  بہکانے کے لئے وہ دہلی این سی آر کے سرکاری اسکولوں کی بچیوں کو نشانہ بناتا تھا۔

پولیس کے مطابق 2004 میں سنیل رودرپور میں جا کر بس گیا تھا۔ دہلی سے اس کو اس لئے رام پور جانا پڑا کیونکہ اس کی نظر بچیوں پر تھی۔ دہلی کے اشوک نگر تھانے میں جب تین معصوم بچیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور ریپ کی شکایت پولیس کو ملی تو پولیس نے چھان بین کی۔ اس دوران ایک سی سی ٹی وی میں سنیل رستوگي کا چہرہ پولیس کو پتہ چلا۔ اس کے بعد پولیس نے ایک ٹیم بنائی اور یہ پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز