ریسٹورینٹ میں بلنگ کے دوران سروس چارج کی ادائیگی اب صارفین کی مرضی پر منحصر

Jan 02, 2017 06:38 PM IST | Updated on: Jan 02, 2017 07:20 PM IST

نئی دہلی: کثیر تعداد میں صارفین سے ایسی شکایات موصول ہوئی تھیں کہ ہوٹلوں اور ریسٹورینٹوں میں ان سے 5 سے لیکر 20 فیصد تک کا سروس ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جس کو صارفین کو ہر صورت میں ادا کرنا ہوتا ہے، خواہ ان کو فراہم کردہ خدمات اچھی رہی ہوں یا خراب۔ صارفین کے تحفظ کے لئے ایکٹ 1986 کے مطابق کوئی بھی تجارتی عمل جو کسی سامان یا اشیا کی فروخت کو فروغ دینے کے لئے ہو، یا کسی سامان اور اشیا کے استعمال یا سپلائی کو فروغ دینے کے لئے ہو اور اس میں غلط اور گمراہ کن طریقہ استعمال کیا جاریا ہو تواس کو غیر منصفانہ تجارتی عمل سے تعبیر کیا جائے گا اور صارفین اس غیر منصفانہ تجارتی عمل کے بارے میں مناسب صارفین فورم میں شکایت درج کراسکتے ہیں۔

اس سلسلے میں مرکزی حکومت کے محکمہ برائے امور صارفین نے ہوٹل ایسوسی ایشن آف انڈیا سے وضاحت طلب کی تھی، جس کے جواب میں ہوٹل ایسوسی ایشن آف انڈیا نے کہا ہے کہ سروس چارج ادا کرنا مکمل طور پر صارفین کی مرضی اور صوابدید پر منحصر ہے۔ صارفین ریسٹورینٹ یا ہوٹل میں اپنے کھانے کے تجربے پر ناپسندیدگی کا بھی اظہار کرسکتے ہیں اور وہ سروس ٹیکس ادا کرنے میں کلی طور پر بااختیار ہیں۔لہذا سروس چارج کی ادائیگی کو رضاکارانہ طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

ریسٹورینٹ میں بلنگ کے دوران سروس چارج کی ادائیگی اب صارفین کی مرضی پر منحصر

محکمہ برائے امور صارفین نے ریاستی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی اپنی متعلقہ ریاستوں میں کمپنیوں، ہوٹلوں اور ریسٹورینٹوں کو صارفین کے تحفظ کے لئے ایکٹ 1986 کے تحت مذکورہ قوانین کے بارے میں مطلع کریں اور ان سے سروس ٹیکس سے متعلق یہ جانکاری ہوٹلوں اور ریسٹورینٹوں میں مناسب جگہ ڈسپلے کرنے کے لئے کہیں کہ سروس چارج اختیاری ،رضاکارانہ اور یہ صارفین کی صوابدید منحصر ہے۔ اگر صارفین فراہم کی جانے والی خدمات سے مطمئن نہیں ہیں تو انہیں سروس ٹیکس ادا نہ کرنے کی کھلی چھوٹ ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز