عربی زبان وادب سے متعلق ہفت روزہ عظیم الشان تقریبات کا جامعہ کے انصاری آڈیٹوریم میں افتتاح

Apr 16, 2017 08:51 PM IST | Updated on: Apr 16, 2017 08:51 PM IST

نئی دہلی : شعبۂ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ ، مرکزعبد اللہ بن عبدالعزیز برائے فروغ عربی زبان، سعودی کلچرل ہاؤس نئی دہلی، اورکل ہندانجمن اساتذہ و علماء عربی زبان کے باہمی اشتراک سے عربی زبان وادب سے متعلق اب تک کی سب سے اہم اور غیر معمولی تقریبات کا افتتاح عمل میں آیا ۔پروگرام کی صدارت جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے کی۔اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے سعودی سفیر ڈاکٹر سعود بن محمدالساطی نے شرکت کی۔پروگرام کا آغاز عماد الدین فؤاد الحسنی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ، پروگرام کے کنوینر شعبۂ عربی کے استاذ پروفیسر حبیب اللہ خان نے پنے افتتاحی کلمات میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر ، سعودی سفیر ، بین الاقوامی مرکز عبداللہ بن عبد العزیز برائے فروغ عربی زبان کے جنرل سکریٹری اور مختلف عرب سفارت خانوں سے تشریف لائے سفارتکاروں کا ستقبال کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا تعارف کرایا اور انھوں نے کہا کہ جامعہ نے دو سعودی بادشاہوں کا استقبال کیا ہے اور آج اسے زبانوں کی ملکہ عربی زبان کا استقبال کرتے ہوئے انتہائی خوشی ہو رہی ہے انھوں نے امید ظاہر کی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا عرب یونیورسٹیز اور اداروں سے رابطہ مضبوط ہوگا،

صدر شعبۂ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر محمد ایوب ندوی نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم جامعہ ملیہ اسلامیہ میں عربی زبان اور اس کے منتسبین کا استقبال کر رہے ہیں اور ہمیں خوشی ہے کہ عربی زبان کی تدریس جامعہ میں اولین روز سے جاری ہے اور آج جامعہ کا شعبۂ عربی ملک کے ممتاز ترین شعبوں میں شامل ہے، اور سعودی عرب سے ہمارا علمی و ادبی تعلق آج ایک نئی بلندی کو چھو رہا ہے۔ شاہ عبد اللہ بین الاقوامی مرکز برائے فروغ عربی زبان کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر عبد اللہ صالح الوشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عربی زبان ایک ایسا رابطہ ہے جو تمام مسلمانوں کو باہم مربوط کر دیتا ہے ۔ یہ قرآن کریم کی زبان ہے ، عربی زبان ایک عظیم تہذیبی و ثقافتی سرمایہ رکھتی ہے، ہندوستان عربی زبان و ادب کا ایک اہم مرکز رہا ہے ، ایک زمانہ میں سعودی علماء نے ہندوستان میں تعلیم حاصل کی ہے، ہندوستانی تہذیب و ثقافت جہاں عربی زبان سے متاثر ہوئی وہیں ہندوستان کے علماء و فضلاء نے ایک زمانے میں علمی و ادبی تحریک کی قیادت کی ہے، شاہ عبد اللہ مرکز برائے فروغ عربی زبان پوری دنیا میں عربی زبان کے فروغ کی کوششیں کر رہا ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ آج ہم جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تعاون سے یہ پروگرام منعقد کر رہے ہیں۔

عربی زبان وادب سے متعلق ہفت روزہ عظیم الشان تقریبات کا جامعہ کے انصاری آڈیٹوریم میں افتتاح

کل ہندانجمن اساتذہ و علماء عربی زبان کے صدرپروفیسر محمد نعمان خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان اور عرب دنیا کے درمیان علمی و ادبی تعلق بہت قدیم ہے ، اس کی مظہر وہ کتابیں اور مخطوطات ہیں جو ہندوستان کی مختلف لائبریریوں میں محفوظ ہیں ، عربی زبان سے ہندوستان کی محبت کی مثال ۴۷یونیورسٹیز اور ہزاروں وہ دینی درسگاہیں ہیں جہاں عربی زبان و ادب کی تعلیم دی جاتی ہے،کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہا عربوں کا ہندوتان سے تعلق بہت قدیم ہے اس کے دلائل ہم ان بہت سارے الفاظ میں پا سکتے ہیں جو دو زبانوں نے ایک دوسرے سے لئے ہیں ، عربی زبان کا ہندوستان کی تہذیب و ثقافت پر اتنا گہرا ثر تھا کہ سندی ، پنجابی ، تمل ، سنسکرت ، گجراتی وغیرہ زبانیںعربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھیں، ہندوستان عربی زبان کی خدمت میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے، ہندوستان کے مشہور ادارہ دائرۃ المعارف عثمانیہ نے عربی کتابیں اور مخطوطات اس زمانے میں شائع کیے جب عربوں کے پاس پریس نہیں آیا تھا،

سعودی سفیر ڈاکٹر سعود بن محمد الساطی نے اپنے خطاب میں اس عظیم الشان پروگرام کے انعقاد پر اپنی خوشی کا اظہار کیا ، انھوں نے کہا سعودی اور ہندوستان کے درمیان انتہائی گہرے روابط ہیں ، شاہ عبداللہ بن عبداللہ کے دورۂ ہند کے ساتھ تعلقات میں آنے والی گرمجوشی کا سلسلہ جاری ہے ، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے سے تعلقات اور اچھے ہوئے ، ہمیں خوشی ہے کہ جامعہ اوور مرکز عبد اللہ کے تعاون سے یہ کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ افتتاحی پروگرام کے صدر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمدنے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ شعبۂ عربی کی جانب سے اس پروگرام کا انعقاد مسرت بخش ہے ۔اس پروگرام سے ہمارے طلبہ و اساتذہ مستفید ہونگے،اس موقع پر وائس چانسلر نے سعودی سفیر سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ سعودی جامعات جس طرح ادبی علوم میں ہندوستانی جامعات سے تعاون کرتی ہیں اسی طرح یہ تعاون سائنس کے میدان میں بھی ہونا چاہیے ، پروگرام کے آخرمیں میں سعودی کلچرل اتاشی عبد للہ بن صالح الشتوی نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز