سید علی شاہ گیلانی کی گھر میں نظربندی کے 7 سال مکمل ، سری نگر میں مظاہرے

Jul 14, 2017 09:38 PM IST | Updated on: Jul 14, 2017 09:38 PM IST

سری نگر : بزرگ علیحدگی پسند راہنما اور حریت کانفرنس (گ) چیئرمین کی اپنے گھر میں نظربندی کے 7 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ حریت کے ایک ترجمان نے یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا ’مسٹر گیلانی بدستور اپنے گھر میں نظربند ہیں اور آج ان کی نظربندی کے 7سال مکمل ہوگئے ہیں۔ یہ نظربندی کسی کورٹ آرڈر کے تحت عمل میں لائی جارہی ہے اور نہ انتظامیہ نے آج تک اس سلسلے میں کوئی تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔ 87سالہ رہنما کو محض گن پوینٹ پر اپنے گھر میں یرغمال رکھا گیا ہے اور ان کے نقل وحمل پر مکمل طور پابندی عائد رکھی گئی ہے‘۔ حریت کانفرنس نے اس نظربندی کو آئین اور قانون کی مٹی پلید کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اس دوران مسٹر گیلانی کی نظربندی کے خلاف جمعہ کے روز تحریک حریت کے اہتمام سے شدید احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ان کی فوری رہائی پر زور دیا گیا۔ سری نگر کے مضافاتی علاقہ حیدرپورہ میں اس سلسلے میں نماز جمعہ کے بعد ایک بڑا جلوس نکالا گیا، جس کی قیادت تحریک حریت راہنمابشیر احمد قریشی کررہے تھے۔

سید علی شاہ گیلانی کی گھر میں نظربندی کے 7 سال مکمل ، سری نگر میں مظاہرے

علیحدگی پسند رہنما اور حریت کانفرنس (گ)چیئرمین سید علی گیلانی

اس موقع پر لوگوں نے نعرے بلند کرتے ہوئے مسٹر گیلانی سمیت تمام سیاسی قیدیوں اور نوجوانوں کی فوری رہائی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طویل ترین نظربندی نے مسٹر گیلانی کی صحت پر کافی منفی اثرات مرتب کئے ہیں اور وہ حد سے زیادہ کمزور ہوگئے ہیں۔ تحریک حریت قائدین نے حقوق بشر کے مقامی اور بین الاقوامی اداروں کو بھی اس بات کے لیے ہدفِ تنقید بنایا گیا کہ انہوں نے کشمیری راہنما کی خلافِ قانون نظربندی کا آج تک کوئی سنجیدہ نوٹس لیا ہے اور نہ ان کی رہائی کے لیے کوئی آواز بلند کی ہے۔ احتجاجی مظاہرے میں تحریک حریت جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی، سیکریٹری چیرمین پیر سیف اللہ، سیکریٹری رابطہ عامہ الطاف احمد شاہ، حریت ترجمان ایاز اکبر، صدرِ ضلع سری نگر وگاندربل راجہ معراج الدین، معاون سیکریٹری شعبہ طب محمد اشرف لایا اور سید امتیاز حیدر کی مسلسل نظربندی اور انہیں نماز جمعہ سے محروم کرنے پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ سیاسی لیڈروں اور ان کی سیاسی سرگرمیوں پر عائد پابندیاں ریاست کے حالات کو مخدوش بنانے کی ایک بڑی وجہ ثابت ہورہی ہیں اور حکومت کی یہ پالیسی جموں کشمیر کو انارکی اور لاقانونیت کی طرف دھکیل رہی ہے۔ تحریک حریت لیڈروں نے کہا کہ اس پالیسی کو بدلا نہیں گیا اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے اسپیس فراہم نہیں کی گئی تو حالات کو بے قابو ہونے کے زبردست خطرات موجود ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز