اوکھلا علاقہ میں عوام سیور، نالہ نالیوں کی پریشانی سے دوچار

دہلی کے اوکھلا حلقہ میں اس وقت عوام سیور، نالہ، نالیوں و راستوں کے ٹوٹے ہونے کی پریشانیوں سے اس قدر دوچار ہیں کہ ان کا گھر سے نکلنا ، مسجد میں نماز کے لئے جانا ، بچوں کو اسکول چھوڑنا، بزرگوں کو اسپتال لےجانا وغیرہ محال ہو گیا ہے۔

Jul 25, 2017 07:21 PM IST | Updated on: Jul 25, 2017 07:21 PM IST

 نئی دہلی۔  دہلی کے اوکھلا حلقہ میں اس وقت عوام سیور، نالہ، نالیوں و راستوں کے ٹوٹے ہونے کی پریشانیوں سے اس قدر دوچار ہیں کہ ان کا گھر سے نکلنا ، مسجد میں نماز کے لئے جانا ، بچوں کو اسکول چھوڑنا، بزرگوں کو اسپتال لےجانا وغیرہ محال ہو گیا ہے۔ ان سب کے باوجود یہاں کے سیاسی نمائندے لوگوں سے صرف لمبے چوڑے وعدے ہی کر رہے ہیں ۔ دہلی میں اوکھلا حلقہ کو مسلمانوں کا دل کہا جاتا ہے ۔ یہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسی عظیم درسگاہ ہے ۔ یہاں جماعت اسلامی ہند جیسی بڑی مسلم تنظیموں کے مراکز بھی ہیں لیکن ان سب کے باجود یہاں عوامی مسائل کا انبار ہے ۔اس وقت جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ سیور سسٹم کا ٹھپ ہوجانا، راستوں کا سالوں سے نہ بنایا جانا، نالیاں جام ، نالوں کا صفائی نہ ہونا وغیرہ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ گھروں سے نکلنے والا پانی راستہ میں جمع ہوتا ہے جس سے گندگی اور بڑی بڑی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ۔

اس وقت برسات کا موسم ہے۔ بارش کا پانی نکلنے کے لئے کوئی انتظام نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام راستوں میں سیلاب جیسی صورت حال ہے ۔ یہ صورت حال کوئی نئی نہیں ہے بلکہ سالوں سے ہے کئی مرتبہ مقامی لوگوں نے یہاں کے نمائندوں سے درست کرانے کے سلسلے میں ملاقات بھی کی لیکن نمائندوں نے کوئی توجہ نہیں دی ۔ اس ضمن میں کچھ مقامی لوگوں نے سیاسی نمائندوں کے خلاف احتجاج بھی کیا ۔ ای ٹی وی کے نمائندے نے ان سے بات کی تو ان لوگوں نے سیاسی نمائندوں اور دہلی سرکار پر کام نہ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ صرف ہم سے وعدے کرتے ہیں مگر کام کچھ نہیں کرتے ۔

اوکھلا علاقہ میں عوام سیور، نالہ نالیوں کی پریشانی سے دوچار

احتجاج کے دوارن یہ بات بھی سامنے آئی کہ علاقہ کے ایم ایل اے امانت اللہ خان آنے والے تھے لیکن وقت گزرگیا وہ نہیں آئے ۔ ان پریشانیوں کو لیکر جب سیاسی نمائندوں سے بات کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اپنی غیر موجودگی کا بہانہ بنا کرکوئی بات نہیں کرتے ہیں۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز