تین طلاق پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بہادر مسلم خواتین کی جیت: شبانہ اعظمی

Aug 23, 2017 12:48 PM IST | Updated on: Aug 23, 2017 12:48 PM IST

نئی دہلی۔ معروف بالی ووڈ اداکارہ اور سماجی کارکن شبانہ اعظمی نے تین طلاق معاملہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ان بہادر مسلم خواتین کی جیت سے تعبیر کیا ہے جنہوں نے گزشتہ کئی برسوں سے اس کے خلاف قانونی لڑائی لڑی ہے۔ شبانہ نے ٹویٹ کیا کہ میں فوری ٹرپل طلاق سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتی ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ان بہادر مسلم خواتین کی جیت ہے جنہوں نے ایک طویل عرصہ تک تین طلاق کے خلاف قانونی لڑائی لڑی۔

سپریم کورٹ نے کل  اپنے اکثریت کے فیصلے میں طلاق بدعت (مسلسل تین بار طلاق کہنے کی رسم) کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ پانچ رکنی آئینی بنچ کے تین ارکان (جسٹس روهگٹن ایف نریمن، جسٹس ادے امیش للت اور جسٹس کورین جوزف) نے طلاق بدعت کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ روایت غیر اسلامی ہے۔ اگرچہ آئینی بنچ کی صدارت کر رہے چیف جسٹس جے ایس کیہر اور جسٹس اے عبدالنذیر نے طلاق بدعت کو غیر قانونی قرار دینے کے تین دیگر ججوں کے فیصلے سے اختلاف کیا ہے ۔

تین طلاق پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بہادر مسلم خواتین کی جیت: شبانہ اعظمی

شبانہ اعظمی: فائل فوٹو، تصویر، ٹوئٹر پیج۔

جسٹس کیہر نے پہلے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو تین طلاق کے معاملے میں قانون بنانے کا مشورہ دیا اور چھ ماہ تک طلاق بدعت پر روک لگانے کا حکم دیا۔ جسٹس کیہر نے کہا کہ اگر حکومت چھ ماہ میں قانون بنانے میں ناکام رہی تو پھر پابندی جاری رہے گی۔ لیکن جسٹس نریمن، جسٹس للت اور جسٹس جوزف نے بعد میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے طلاق بدعت کو مسلم خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ تین ججوں نے اس عمل کو غیر آئینی اور غیر اسلامی قرار دیا۔

عدالت عظمی نے اکثریت کے فیصلے میں کہا کہ طلاق بدعت خواتین کی مساوات کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس جوزف نے کہا، "تین طلاق اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے اور اس روایت کو آئین کے آرٹیکل 25 (بنیادی حقوق سے متعلق قانون) کا تحفظ حاصل نہیں ہے۔لہذا، اسے ختم کرنا چاہئے۔ " جسٹس نریمن نے کہا کہ تین طلاق کو آئین کی کسوٹی پر پرکھا جانا ضروری ہے۔ غور طلب ہے کہ عدالت عظمی نے گزشتہ 18 مئی کو مسلم خواتین سے منسلک تین طلاق کے معاملے پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

شبانہ اعظمی نے اداکاری کے ساتھ ساتھ سماجی کارکن کے طور پر بھی اپنے کام کا آغاز کیا۔ ایڈس جیسے مہلک مرض سے نمٹنے میں ان کا تعاون بیحد اہم رہا ہے۔ انہوں نے متعدد ڈراموں اور مظاہروں میں شرکت کر کے فرقہ واریت کی مذمت بھی کی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز