Live Results Assembly Elections 2018

ہم ترک تعلیم کرنے والی لڑکیوں کو محض کالج اور یونیورسٹیوں کے لئے ہی تیار نہیں کرتے بلکہ آداب زندگی بھی سکھاتے ہیں: شبنم ہاشمی

شبنم ہاشمی نے کہا کہ مسلمانوں کے علاقے میں سنٹر کھولے جائیں یا اسکول قائم کئے جائیں تو کسی بھی مسلم والدین کو لڑکیوں کو باہر بھیجنے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

Sep 29, 2017 10:39 AM IST | Updated on: Sep 29, 2017 10:39 AM IST

نئی دہلی۔  ہم ترک تعلیم کرنے والی لڑکیوں کو محض کالج اور یونیورسٹییوں کے لئے ہی تیار نہیں کرتے بلکہ دشوار گزارزندگی میں اپنے آپ کو کس طرح ڈھالیں اور حالات کا مقابلہ کس طرح کریں یہ بھی سکھاتے ہیں۔یہ بات مشہور سماجی کارکن اورپہچان کی ٹرسٹی محترمہ شبنم ہاشمی نے پہچان میں زیر تعلیم لڑکیوں کا میڈیا کے سامنے تعارف کراتے ہوئے کہی۔۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ لڑکیاں ہیں جنہوں نے گھریلو مجبوری، اسکول کی کمی یا اسکول کی دوری یا ماحول کے خراب ہونے یا مالی دشواری کی وجہ سے تعلیم ترک کردی تھی لیکن پہچان کی وجہ سے ان لڑکیوں نے نہ صرف اسکول کی تعلیم مکمل کی بلکہ ان میں متعدد لڑکیوں نے کالج اور یونیورسٹییوں کا بھی رخ کیا اور بہترین تعلیم حاصل کرکے نوکریاں کر رہی ہیں۔

ہم ترک تعلیم کرنے والی لڑکیوں کو محض کالج اور یونیورسٹیوں کے لئے ہی تیار نہیں کرتے بلکہ آداب زندگی بھی سکھاتے ہیں: شبنم ہاشمی

شبنم ہاشمی: فائل فوٹو

انہوں نے کہا کہ تعلیم بہت ضروری ہے اور اس سے ہی زندگی بدلی جا سکتی ہے۔ اب تک حکومت یا این جی اوز نے اس پر توجہ نہیں دی اور جس کی وجہ سے مسلم لڑکیاں ترک تعلیم کرنے میں مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین کے تین طلاق پر تو بحث و مباحثہ کا لمبا دور چلتا ہے لیکن ان بے سہارا اور مجبور لڑکیوں پر کبھی بات نہیں کی جاتی۔ انہوں نے سوالیہ  لہجے میں کہا کہ حکومت اور تنظیمیں ان لڑکیوں کے لئے کیا کررہی ہیں یہ پوچھا جانا چاہئے۔

محترمہ ہاشمی نے کہا کہ مسلمانوں کے علاقے میں سنٹر کھولے جائیں یا اسکول قائم کئے جائیں تو کسی بھی مسلم والدین کو لڑکیوں کو باہر بھیجنے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ انہوں نے پہچان کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہا کہ اب تک سینکڑوں لڑکیاں پہچان سے فیضیاب ہوچکی ہیں اور ہم یہاں صرف انہیں تعلیم ہی نہیں دیتے بلکہ زندگی گزارنے کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز