بہار کی طرز پر اترپردیش کے مدرسوں کا انتظام کیا جائے : شمائل نبی ، وسیم رضوی کی شدید تنقید

ہم نے مدرسوں میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی شامل کردیا یعنی ہندی انگریزی نصاب اور سائنس کو بھی نصاب میں شامل کردیا۔

Jan 10, 2018 08:40 PM IST | Updated on: Jan 10, 2018 08:40 PM IST

نئی دہلی : آل انڈیا مسلم کانفرنس کے صدر اور بہار کے سابق وزیر شمائل نبی اور کانفرنس کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر عبداللہ مدنی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے چیرمین وسیم رضوی کے وزیراعظم اور وزیر اعلی کو لکھے گئے خط پر تبصرہ کرتے ہوئے کہیں ہمیں نہیں معلوم کہ یوپی کے مدرسوں کا کیا حال ہے لیکن مسٹر رضوی نے خط میں جن باتوں کا اظہار کیا ہے، اس کے بالکل ہی برعکس بہار کے مدرسوں کا حال ہے۔

شمائل نبی نے کہا ہے کہ جب بہار میں ڈاکٹر جگناتھ مشرا وزیر اعلی تھے تو انہوں نے مدرسوں کی زبولی حالی کو دیکھتے ہوئے مدرسوں کی جدید کاری کے لئے میری صدارت میں کمیٹی بنائی تھی جس کا نام ہی شمائل نبی کمیٹی تھا۔ان لوگوں نے ایک ماہ کے اندر ہی وزیر اعلی کو رپورٹ دے دی تھی،اس میں جو تجاویز دی گئیں ، اسے وزیر اعلی نے فورا لاگو کردیا۔

بہار کی طرز پر اترپردیش کے مدرسوں کا انتظام کیا جائے : شمائل نبی ، وسیم رضوی کی شدید تنقید

علامتی تصویر

انہوں نے کہا کہ ہم نے مدرسوں میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی شامل کردیا یعنی ہندی انگریزی نصاب اور سائنس کو بھی نصاب میں شامل کردیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ مدرسوں کی ڈگری فوقانیہ، مولوی، عالم ، فاضل کو دوسری ڈگریوںیعنی میٹرک اے اور بی اے اور ایم کے برابر کردیا جس سے مدرسے سے پاس لوگوں کو بھی نوکریاں مل سکیں اور ہوا بھی ایسا ہی۔

مدرسوں کو ختم کرکے اسکول بنادینے کی تجویز پر شمائل نبی اور ڈاکٹر عبداللہ مدنی نے اپنے شدید ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مدرسوں سے ہی ہماری زبان اور تہذیب زندہ ہے اور مدارس ہی ہمیں مذہب اسلام کے قریب کرتے ہیں او راگریہ ختم کردیئے گئے تو ہم صرف نام کے مسلمان رہ جائیں گے۔ شمائل نبی نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ بہار کے مدرسوں کے حالات منگواکر اسی کے نقش قدم پر یوپی کے مدرسوں کی جدید کاری کی جائے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز