شرد یادو آج دکھائیں گے 'سیاسی طاقت'، 17 اپوزیشن پارٹیاں ہوں گی شامل

جے ڈی یو کے باغی لیڈر شرد یادو نے کہا کہ میٹنگ میں کانگریس، بائیں بازو، ایس پی، ترنمول کانگریس، بی ایس پی اور این سی پی سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔

Aug 17, 2017 11:28 AM IST | Updated on: Aug 17, 2017 11:28 AM IST

نئی دہلی۔ جے ڈی یو کے باغی لیڈر شرد یادو جمعرات کو اپنی طاقت دکھائیں گے۔ انہوں نے اپوزیشن کی 17 جماعتوں کے ساتھ یک روزہ میٹنگ بلائی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس میں منموہن سنگھ، راہل گاندھی، اکھلیش یادو اور سیتا رام یچوری سمیت اپوزیشن کے سرکردہ لیڈروں کے شامل ہونے کا امکان ہے۔

یادو نے کہا کہ میٹنگ میں کانگریس، بائیں بازو، ایس پی، ترنمول کانگریس، بی ایس پی اور این سی پی سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ ان کی اس میٹنگ کو جے ڈی یو صدر نتیش کمار کے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کے فیصلے کے خلاف طاقت کے مظاہرہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

شرد یادو آج دکھائیں گے 'سیاسی طاقت'، 17 اپوزیشن پارٹیاں ہوں گی شامل

شرد یادو: فائل فوٹو

Loading...

یادو نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں نتیش کمار سے اپنے اختلافات اور مستقبل کے سیاسی اقدامات کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ میٹنگ کسی کے خلاف نہیں بلکہ ملک کے مفاد میں ہے۔ یادو نے زور دیا کہ 'مشترکہ وراثت' آئین کی روح ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس کے ساتھ 'چھیڑ چھاڑ' کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اجلاسوں کا ملک بھر میں انعقاد کیا جائے گا۔ جے ڈی یو کے سابق صدر یادو نے کہا کہ اس ایونٹ کے لئے فیصلہ ہفتوں پہلے لیا گیا جب ان کی پارٹی اپوزیشن گروپ کا حصہ تھی۔

انہوں نے کہا، 'مشترکہ وراثت بچاو کانفرنس' کسی کے خلاف نہیں، بلکہ ملک کے مفاد میں ہے۔ یہ ملک کے 125 کروڑ لوگوں کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے روہت ویمولا کی خودکشی، جے این یو طالب علم نجیب احمد کی گمشدگی، ملک بھر میں کسانوں کی خود کشی وغیرہ مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ محروم لوگوں کے لئے حالات کافی مشکل ہیں۔ آستھا کے نام پر تشدد کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے یادو نے کہا کہ یہ زمین پر نظر نہیں آتا اور مودی کو اپنی پارٹی کی حکومتوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ ان کے احکامات پر عمل کریں۔ اس دوران جے ڈی یو نے کہا ہے کہ شرد یادو کو 'داغی لیڈروں' کے ساتھ نہیں جانا چاہئے۔ قابل ذکر ہے کہ جے ڈی یو نے انہیں راجیہ سبھا میں اپنے پارلیمانی پارٹی کے لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

یادو کے ساتھ راجیہ سبھا رکن علی انور انصاری بھی تھے جنہیں پارٹی نے پارلیمانی پارٹی سے معطل کر دیا ہے۔ پارٹی سیکرٹری جنرل کے عہدے سے ہٹائے گئے ارون شریواستو بھی شرد یادو کے ساتھ موجود تھے۔ یادو نے بعد میں ایک بیان میں کہا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور راہل گاندھی کے علاوہ کانگریس سے غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل، ایم سی پی سے یچوری، ایس پی سے اکھلیش یادو، رام گوپال یادو اور نریش اگروال، آر جے ڈی سے منوج جھا، این سی سے فاروق عبداللہ اور جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلی بابو لال مرانڈی نے میٹنگ میں شامل ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز