شرد یادو نے کہا : بہار میں جو ہو ا وہ صحیح نہیں ہوا ، عوام نے اکثریت اسلئے نہیں دی تھی، یہ بدقسمتی کی بات ہے

جے ڈی یو کے سینئر لیڈر شرد یادو نے کہا ہے کہ ریاست میں جو کچھ ہوا ہے اس سے وہ متفق نہیں ہیں

Jul 31, 2017 03:26 PM IST | Updated on: Jul 31, 2017 03:43 PM IST

نئی دہلی: مسٹر نتیش کمار کے بہار میں عظیم اتحاد سے الگ ہوکر قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے ساتھ حکومت بنانے سے ناخوش جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے سینئر لیڈر شرد یادو نے کہا ہے کہ ریاست میں جو کچھ ہوا ہے اس سے وہ متفق نہیں ہیں اور انہیں عظیم اتحاد کے ٹوٹنے کا افسوس ہے۔ مسٹر کمار نے بہار میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس سمیت دیگر پارٹیوں کے عظیم اتحاد سے الگ ہو کر 27 جولائی کو این ڈی اے کے ساتھ مل کر حکومت بنائی ہے۔

مسٹر یادو اس فیصلے سے ناخوش بتائے جا رہے تھے اور انہوں نے آج پہلی بار اس پر اپنی خاموشی توڑی۔ پارلیمنٹ کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ نے کہا، ’’جو صورت حال ہے، وہ ناخوشگوار ہے۔  ملک اور بہار کے 11 کروڑ عوام کے لیے یہ صحیح نہیں ہوا ، بہار میں جو کچھ واقع ہوا میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ ریاست کے عوام نے اکثریت اس لئے نہیں دی تھی، یہ بدقسمتی کی بات ہے۔‘‘

شرد یادو نے کہا : بہار میں جو ہو ا وہ صحیح نہیں ہوا ، عوام نے اکثریت اسلئے نہیں دی تھی، یہ بدقسمتی کی بات ہے

اس واقعے کے بعد مسٹر یادو کے ساتھ ہی پارٹی کے ایک اور رہنما علی انور نے اپنی ناخوشی ظاہر کی تھی۔ میڈیا میں اس طرح کی خبریں بھی آئی تھی کہ مسٹر یادو کو منانے کے لیے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے ان سے بات چیت کی ہے۔ آر جے ڈی سربراہ لالو یادو نے مسٹرشرد یادو کو اپنے ساتھ آنے اور فرقہ وارانہ قوتوں سے لڑنے کے لئے قیادت کا اعلان بھی کیا ہے۔ مسٹر یادو کے بیان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ این ڈی اے کی جانب سے ان کو قائل کرنے کی کوشش ابھی کامیاب نہیں ہوئی ہے۔

مسٹر یادو کے خلاف جے ڈی (یو) کا کوئی لیڈر ابھی تک کھل کر نہیں بول رہا ہے۔ پارٹی کے ترجمان کے سی تیاگی نے اتنا ضرور کہا ہے کہ مسٹر یادو پارٹی کے سینئر لیڈرہیں اور ان کی بات پورے احترام کے ساتھ ضرور سنی جائے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز