چاچا شریف ، ایودھیا میں شمشان ہو یا قبرستان ، سب کی زبان پر آتا ہے صرف ان کا ہی نام

Mar 06, 2017 06:43 PM IST | Updated on: Mar 06, 2017 06:43 PM IST

فیض آباد : ایودھیا کے 80 سالہ سن رسیدہ شخص شریف کسی مثال سے کم نہیں ہیں۔ دہائیوں سے بلاتفریق مذہب و ملت سینکڑوں افراد کی آخری روسوم ادا کراچکے ہیں ۔جہاں ہندوؤں کا شمشان میں انتم سنسکار کراتے ہیں ، وہیں قبرستان میں لاشوں کو سپرد خاک بھی کرتے ہیں۔

شریف گزشتہ 25 سالوں سے فیض آباد میں لاوارث لاشوں کی تدفین کا کام انجام دے رہے ہیں۔ پورے ایودھیا میں وہ چاچا کے نام سے مشہور ہیں۔ شریف چاچا کا کہنا ہے کہ وہ هند اور مسلمان کی لاشوں میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔

چاچا شریف ، ایودھیا میں شمشان ہو یا قبرستان ، سب کی زبان پر آتا ہے صرف ان کا ہی نام

چاچا شریف سیاسی جماعتوں سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'یہ سب ووٹ کے چکر میں سیاسی لیڈران بولتے ہیں ، مگر میری عزت میں تو ہندوؤں کی وجہ سے ہی کافی اضافہ ہوا ہے۔ ہمارا خون ایک جیسا ہے اور میری محبت کسی ذات یا مذہب تک محدود نہیں ہے۔ ہم ہندو اور مسلم دونوں کی مٹی گلے سے لگاتے ہیں اور یہ لوگ سب کو الگ کرنا چاہتے ہیں۔چاچا شریف کو اب تک کئی حکومتوں اور غیر سرکاری اداروں کےذریعہ ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔ چاچا شریف پیشہ سے سائیکل میکینک ہیں اور روزانہ قبرستان اور شمشان کے درمیان چکر کاٹتے رہتے ہیں۔

chacha shrif

چاچا شریف اپنے اس کام کا راز بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ 1992 میرا بڑا بیٹا محمد رئیس خان کیمسٹ کے طور پر کام کرنے کیلئے سلطان پور گیا تھا، لیکن ایک ماہ تک غائب رہا۔ اس وقت رام جنم بھومی کا تنازع چل رہا تھا ، جس کی وجہ 1992 میں بابری مسجد مسمار کر دی گئی۔ بعد میں ایک بوریوں سے رئیس کی لاش ملی تھی۔اس کا قتل کر دیا گیا تھا۔بس تبھی سے میں نے فیصلہ کیا کہ اب کسی بھی لاوارث لاش کو سڑک پر سڑنے نہیں دوںگا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز