شرمیلا ٹیگور کے ہاتھوں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں فلم کلب کا افتتاح

پدم بھوشن یافتہ اور فلم سنسر بورڈ کی سابق صدر نامور فلم اداکارہ شرمیلا ٹیگور نے آج جامعہ ملیہ اسلامیہ میں فلم کلب کا افتتاح کیا۔

Jan 17, 2017 08:37 PM IST | Updated on: Jan 17, 2017 08:37 PM IST

نئی دہلی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے کہا کہ جب وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طالب علم تھے تب ہی وہ وہاں فلم اور ڈرامہ کلب میں سرگرم تھے اور اس سے کافی کچھ سیکھا بھی تھا۔ یہ بات ٖآج انہوں نے جامعہ فلم کلب کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے جب وہ جامعہ میں آئے تو انہوں نے فلم کلب شروع کرنے کے بارے میں سوچا کیونکہ فلموں سے کافی تعلیم ملتی ہے۔ انہوں نے طالب علموں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ تعداد میں اس کے رکن بنیں اور اچھی سے اچھی فلموں کی کارکردگی کی تجویز دیں۔انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ نے طالب علموں کو ملکی و غیر ملکی بہترین فلموں سے واقف کرنے کے لئے فلم کلب قائم کیا ہے۔

پدم بھوشن یافتہ  اور فلم سنسر بورڈ کی سابق صدر نامور فلم اداکارہ شرمیلا ٹیگور نے آج اس کلب کا افتتاح کیا۔ محترمہ ٹیگور نے آڈیٹوریم میں کھچا کھچ بھرے طالب علموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اس یونیورسٹی کے ماس کمیونی کیشن سے کئی ایسے طالب علم نکلے ہیں جنہوں نے فلمی دنیا میں اپنی شناخت بنائی ہے۔ اس ادارے سے آج یونیورسٹی کی شناخت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلمیں لوگوں میں صرف امید ہی پیدا نہیں کرتیں بلکہ وہ معاشرے کی برائیوں کا حل بھی پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا  کہ اس فلم کلب سے طالب علموں کے سامنے فلموں کے نئے نئے فنون کھلیں گے اور وہ ان فنون سے بھی واقف ہوں گے اور فلموں کے بارے میں ان کی اچھی سوچ پیدا ہوگی ۔

شرمیلا ٹیگور کے ہاتھوں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں فلم کلب کا افتتاح

تقریب کے مہمان خصوصی اور نیسكام کے سابق صدر کرن کارنک نے کہا کہ اس طرح کے کلبوں سے صرف فلموں کو دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا بلکہ ان سے آدمی کچھ سیکھتا بھی ہے اور اس سے ان کی سوچ تیار ہوتی ہے۔ ان کلبوں میں سنیما کے بارے میں سنجیدہ بات چیت بھی ہوتی ہے اور فلم ڈائریکٹرز مینوفیکچررز سے بات چیت کا بھی موقع ملتا ہے۔ فلم ساز ڈائریکٹر امت کھنہ نے کہا کہ 1920 تک ہندوستان دنیا میں فلم سازی کرنے والا ایک بڑا ملک بن گیا تھا اور 1922 میں فلمی تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل بھی ہو گئی تھی جو مستقبل میں فلم سنسر بورڈ کے قیام کی بنیاد بنی۔ انہوں نے کہا کہ وہ فلم سنسر کرنے کے حق میں کبھی نہیں رہے اور انہوں نے پانچ دہائیوں تک سنسر شپ کی مخالفت کی۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز