بابری مسجد معاملہ : بات چیت کا مخالف نہیں ، مگر معاہدہ کی بات متعلقہ لوگوں سے ہی ہو : مولانا کلب جواد

Nov 15, 2017 11:14 PM IST | Updated on: Nov 15, 2017 11:14 PM IST

لکھنؤ: ايودھيا میں رام جنم بھومی تنازع کے حل کے سلسلے میں شیعہ سینٹرل وقف بورڈ اور شری شری روی شنکر کے درمیان بات چیت کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مسلم دانشوروں کا خیال ہے کہ اس مسئلے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی قابل قبول ہوگا۔

شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب جواد نے کہا ہے کہ میں بات چیت کا مخالف نہیں ہوں مگر معاہدے کی بات معاملے سے منسلک لوگوں سے ہی ہونا چاہئے۔ اتر پردیش شیعہ سنٹرل وقف بورڈ حکومت کی تشکیل کردہ ایک ادارہ ہے۔ وہ ملک کے تقریبا سات کروڑ شیعوں کی نمائندگی نہیں کرتا ہے۔ دراصل وقف بورڈ کا ذمہ مسجد سمیت تمام مذہبی عمارات کا انتظام کرنا ہوتا ہے مگر وہ کسی بھی عمارت کو عطیہ میں نہیں دے سکتا ہے‘‘۔

بابری مسجد معاملہ : بات چیت کا مخالف نہیں ، مگر معاہدہ کی بات متعلقہ لوگوں سے ہی ہو : مولانا کلب جواد

شیعہ پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان يعسوب عباس نے کہا ’’مسٹر وسیم رضوی شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین ہیں، وہ ایک سرکاری محکمہ ہے۔ شیعہ پرسنل لا بورڈ رام مندر معاملے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ساتھ ہے۔ ہم چاہتے ہیں وہاں ایک مسجد بنے ۔ اس کے علاوہ جو تنازعات ہیں عدالت یا بات چیت کے ذریعہ حل ہو۔ شری شری روی شنکر نے مجھ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی مگر میں نے کہا اگر آپ کے پاس کوئی ٹھوس فارمولہ ہو تو بات کریں‘‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز