شیعہ وقف بورڈ کا ایودھیا فارمولہ: متنازع مقام پر بنے مندر، مسجد کے لئے ملے دوسری جگہ

Aug 08, 2017 05:00 PM IST | Updated on: Aug 08, 2017 05:00 PM IST

نئی دہلی۔ شیعہ سینٹرل وقف بورڈ نے منگل کو سپریم کورٹ میں ایک عرضی ڈال کر رام جنم بھومی اور بابری مسجد تنازعہ کو نیا موڑ دے دیا ہے۔ شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کی طرف سے داخل کی گئی اس عرضی میں سنی سینٹرل وقف بورڈ کی جگہ اسے فریق بنانے کی مانگ کی گئی ہے۔ یہی نہیں اس عرضی میں اس تنازعہ کو حل کرنے کا فارمولہ بھی بتایا گیا ہے۔ فارمولے کے تحت متنازع مقام ہندوؤں کو رام مندر کی تعمیر کے لئے دے دیا جائے اور ایودھیا میں ہی مسجد بنانے کے لئے مسلمانوں کو دوسری جگہ دی جائے۔

شیعہ وقف بورڈ نے دعوی کیا ہے کہ وہ متنازع مقام سنی سینٹرل وقف بورڈ کی نہیں، بلکہ شیعہ وقف بورڈ کی ملکیت ہے۔ ساتھ ہی دعوی کیا گیا ہے کہ بابر کی لکھی کتاب میں بھی اس مسجد کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ جو متنازع مقام بابری مسجد کے نام سے جانا جاتا ہے، دراصل وہ وقف مسجد میر باقی ہے جو بابر کے وقت میں میر باقی کی طرف سے بنوائی گئی شیعہ مسجد تھی۔

شیعہ وقف بورڈ کا ایودھیا فارمولہ: متنازع مقام پر بنے مندر، مسجد کے لئے ملے دوسری جگہ

بابری مسجد، فائل فوٹو: گیٹی امیجیز

اس سے پہلے معاملے میں ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ دونوں فریق آپس میں فیصلہ کریں۔ سپریم کورٹ نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے پر مہر لگا دی تھی۔ لیکن دونوں ہی فریقوں میں ابھی تک کوئی بات چیت نہیں ہو سکی۔ اب اس جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے شیعہ بورڈ نے پہل کی ہے۔ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق متنازع مقام کا ایک تہائی حصہ مسلمانوں کو دیا گیا ہے۔ شیعہ بورڈ کا کہنا ہے کہ ایک تہائی حصے پر مسجد بھی بنتی ہے تو مندر مسجد کے پاس ہونے کی وجہ سے لڑائی کا امکان بنا رہے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز