صدر جمہوریہ نے کی نوٹ بندی کی حمایت ، لوک سبھا اور ریاستی الیکشن ایک ساتھ کرانے کی پرزور وکالت

Jan 25, 2017 07:59 PM IST | Updated on: Jan 26, 2017 07:16 AM IST

نئی دہلی۔  صدر پرنب مکھرجی نے آج ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے انتخابی اصلاحات پر زور دیا اور کہا کہ ہندوستانی جمہوریت کی پختگی کے لئے پارلیمنٹ میں تبادلہ خیال کیا جانا چاہئے۔  مکھرجی نے یہاں 68ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ حالانکہ ہماری جمہوریت پرشور ہے۔ لیکن ہماری جمہوریت کی مضبوطی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2014 کے عام انتخابات میں ایک مستحکم حکومت بنانے کے لئے 83 کروڑ 40لاکھ ووٹروں میں سے 66فیصد سے زیادہ نے ووٹ دئے۔ ہماری جمہوریت کی گہرائی اور وسعت ہمارے پنچایتی راج کے اداروں میں منعقد ہونے والے مستقل انتخابات سے جھلکتی ہے۔ پارلیمنٹ میں گذشتہ چند اجلاسوں کے دوران تعطل پر صدر نے کہا کہ اس سے ہمارے قانون سازوں کا اہم امور پر بحث اور قانون سازی کے لئے مہیا وقت خلل کی نذر ہوجاتا ہے۔ جب کہ انہیں اہم موضوعات پر بحث و مباحثہ کرنا چاہئے اور قانون بنانے چاہئیں۔ بحث، تبادلہ خیال اور فیصلہ سازی پر ازسرنو توجہ دینے کے لئے اجتماعی کوشش کی جانی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ اب جب کہ ہماری جمہوریہ اپنے اڑسٹھویں سال میں داخل ہورہی ہے ، ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ ہمارے سسٹم پرفیکٹ نہیں ہیں۔ خامیوں کی نشاندہی کی جانی چاہئے اور ان میں سدھار کیا جانا چاہئے۔ ایسی لاپرواہیوں پر اعتراض کیا جانا چاہئے۔اعتماد کے ستون کو مضبوط کیا جانا چاہئے ۔ انتخابی اصلاحات پر تعمیری بحث و مباحثہ کرنے اور آزادی کے بعد ان ابتدائی دہائیوں کی روایت کی طرف واپس لوٹنے کا وقت آگیا ہے جب لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ منعقد کئے جاتے تھے ۔ سیاسی جماعتوں سے صلاح و مشورہ کرکے اس کام کو آگے بڑھانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔‘‘ مسٹر مکھرجی نے کہا کہ انتہائی مسابقتی دنیا میں ہمیں اپنے عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے پہلے سے بہت زیادہ محنت کرنی ہوگی۔ غربت سے ہماری جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ غربت پر سخت حملہ کرنے کے لئے طویل مدت میں ہماری معیشت کو ابھی بھی 10فیصد سے زیادہ ترقی کرنی ہوگی۔ ہمار ے اہل وطن کا پانچواں حصہ ابھی تک خط افلاس سے نیچے ہے۔ گاندھی جی کا ہر آنکھ سے آنسو پوچھنے کا مشن ابھی بھی ادھورا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کو بدامنی سے دوچار علاقہ میں بھی استحکام کا نخلستان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ہم 1.3 ارب آبادی والی ایک مضبوط قوم ہیں۔اس کے باوجود ہماری فی کس آمدنی میں دس گنا اضافہ ہوا ہے۔ غربت کے تناسب میں دو تہائی گراوٹ آئی ہے، اوسط متوقع زندگی دو گنا سے زیادہ ہوگئی ہے اور شرح خواندگی میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔آج ہم دنیا کی اہم معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہیں۔ ہم سائنس اور تکنیکی افرادی قوت کا دوسرا سب سے بڑامخزن، تیسری سب سے عظیم فوج، نیوکلیائی کلب کے چھٹے رکن ، خلائی دوڑ میں شامل چھٹے رکن اور دسویں سب سے بڑی صنعتی طاقت ہیں۔

صدر جمہوریہ نے کی نوٹ بندی کی حمایت ، لوک سبھا اور ریاستی الیکشن ایک ساتھ کرانے کی پرزور وکالت

انہوں نے ترقی کا سفر جاری رہنے پر یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اناج درآمد کرنے والے ایک ملک سے ہندوستان اب خوردنی اشیاء برآمد کرنے والا سرفہرست ملک بن چکا ہے۔اب تک کا سفر واقعات سے بھرپور، کبھی کبھی تکلیف دہ ، لیکن بیشتر اوقات نشاط انگیز رہا ہے۔جس طرح ہم یہاں تک پہنچے ہیں ویسے ہی اور آگے بھی پہنچیں گے۔لیکن ہمیں بدلتی ہوئی فضاوں کے ساتھ تیزی سے اور تدبر کے ساتھ اپنے رخ میں تبدیلی کرنا بھی سیکھنا ہوگا۔ارتقاء پذیر اور اضافت پذیر ترقی کو سائنس اور ٹکنالوجی کی پیش رفت سے پیدا ہونے والی تیزرکاوٹوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اختراعات او را س سے بھی آگے زیادہ شمولیتی جدت طرازی کو طرز حیات بنانا ہوگا۔ تعلیم کو ٹکنالوجی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھنا ہوگا۔ انسان اور مشین کی دوڑ میں ، جیتنے والے کو روزگار پیدا کرنا ہوگا۔ٹکنالوجی اپنانے کی رفتار کے لئے ایک ایسے ور ک فورس کی ضرورت ہوگی جو سیکھنے اور خود کو اس کے مطابق ڈھالنے کا خواہش مند ہو۔ہمارے تعلیمی نظام کو، ہمارے نوجوانوں کو تاحیات سیکھنے کے لئے اختراعات سے جوڑنا ہوگا۔ مسٹر مکھرجی نے حکومت کے اہم اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اہم اقدامات کا مقصد سماج کی بہتری کو فروغ دینا ہے۔سوچھ بھارت مشن کا مقصد گاندھی جی کی 150ویں سالگرہ پر 2 اکتوبر 2019تک ہندوستان کو صاف ستھرا بنانا ہے۔ دیہی معیشت کی بحالی کے لئے منریگا جیسے پروگراموں کے بجٹ میں اضافہ سے روزگار میں اضافہ ہورہا ہے۔ 110کروڑ سے زیادہ لوگوں تک اپنی موجودہ رسائی کے ساتھ آدھار فائدوں کی راست منتقلی، مالی نقصان کو روکنے اور شفافیت میں اضافہ کرنے میں مدد کررہا ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا پروگرام ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور کیش لیس اقتصادی لین دین کے لئے پلیٹ فارم فراہم کرنے میں نالج اکنامی تیار کررہا ہے۔ اسٹارٹ اپ انڈیا اور اٹل انوویشن مشن جیسی پہل اختراعات اور نئے زمانے کے انٹرپرینیورشپ کو فروغ دے رہی ہے۔اسکل انڈیا پہل کے تحت نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ مشن 2022 تک 30کروڑ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لئے کام کررہا ہے۔

انہوں نے ملک کی تکثیریت اور سماجی ، ثقافتی، لسانی اور مذہبی رنگا رنگی کو سب سے بڑی طاقت قرار دیا اور کہا کہ ہندوستانی روایت نے ہمیشہ ’غیر تحمل ہندوستانی‘ نہیں بلکہ ’استدلالی‘ ہندوستانی کی تعریف کی ہے۔ صدیوں سے ہمارے ملک میں مختلف نظریات، خیالات اور فلسفے نے پرامن طریقے پر ایک دوسرے سے مسابقت کی ہے۔ جمہوریت کے پھلنے پھولنے کے لئے ، ایک دانشمند اورسمجھدار ذہنیت کی ضرورت ہے۔ ایک صحت مند جمہوریت کے لئے خیالات میں یکسانیت سے زیادہ تحمل، صبر اور دوسرے کا احترام جیسی قدروں پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ قدریں ہر ہندوستانی کے دل و دماغ میں رہنی چاہئیں، جس سے ان میں سمجھداری اور ذمہ داری کے جذبات پیدا ہو تے رہیں۔ صدر نے کہا کہ فوڈ سیکورٹی فراہم کرنے کے لئے اور زرعی سیکٹر کو قدرتی اتار چڑھاو کا مقابلہ کرنے کا اہل بنانے کی خاطر لچکدار بنانے کے لئے اور زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ زندگی کی معیاری خوبیاں یقینی بنانے کے لئے گاوں کے اپنے لوگوں کو بہتر سہولیات اور مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔ گھریلو صنعت کی مسابقت میں میعار، پیداواریت اور صلاحیت پر توجہ دے کر سدھار لانا ہوگا۔ خواتین اور بچوں کوسلامتی اور تحفظ فراہم کرنے کے لئے اور زیادہ کام کرنا ہوگا۔ خواتین کو احترام اور وقار کے ساتھ زندگی گذارنے کا اہل بنانا چاہئے۔ بچوں کو پوری طرح سے اپنے بچپن کا لطف اٹھانے کا موقع دیا جانا چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز