یوپی اسمبلی انتخابات 2017: چھٹے مرحلے میں تقریبا 57.03 فیصد پولنگ

Mar 04, 2017 08:02 AM IST | Updated on: Mar 04, 2017 07:44 PM IST

لکھنؤ۔  اترپردیش اسمبلی انتخابات میں گزشتہ پانچ مراحل کے مقابلے آج چھٹے مرحلے میں ووٹنگ فی صد کمی آئی اور اس میں تقریبا57.03 فیصد ووٹروں نے ہی اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ ریاست کے چیف الیکشن افسر کے دفتر کے مطابق چھٹے مرحلے میں تقریبا57.03 فیصد ووٹروں نے ووٹنگ میں حصہ لیا ہے۔ اس سے قبل پانچ مراحل میں 11، 15، 19، 23 اور 27 فروری کو بالترتیب 64.22،65 ،61.16فیصد،61اور57.04فیصد پولنگ ہوئی تھی۔ چھٹے مرحلے میں اعظم گڑھ میں 59.211، بلیامیں 57.16 ، دیوریامیں 58، کشی نگر میں 59.03، گورکھپور میں 56 مئو میں 58.64 اور مہراج گنج میں 61 فیصد پولنگ ہوئی۔ اس مرحلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سوامی پرساد موریہ، سورج پرتاپ شاہی، سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے رام گووند چودھری، درگا یادو، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے گنیش شنکر پانڈے، سکھدیو راج بھر، مختار انصاری اور آزاد امیدوار امن منی ترپاٹھی سمیت کل 635 امیدواروں کی قسمت الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) میں بند ہو گئی۔

اس درمیان، ریاست کے ایڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل (قانون) دلجیت چودھری کے مطابق کہیں سے ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے۔ اس مرحلے میں سات اضلاع کی 49 سیٹوں پر پولنگ ہوئی۔ ساتویں اور آخری مرحلے کی ووٹنگ آٹھ مارچ کو ہوگی۔ تمام مراحل کی ووٹوں کی گنتی 11 مارچ کو کرائی جائے گی۔ اس سے قبل مہاراج گنج اور دیگر علاقوں سے متصل نیپال کی سرحد کو سیل کر دیا گیا تھا۔ مسلح سر حد ی فورس کے جوانوں نے سرحد پار سے کسی کو آنے کی اجازت نہیں دی۔اس مرحلے میں ایس پی سرپرست ملائم سنگھ یادو کے پارلیمانی حلقہ اعظم گڑھ اور بی جے پی لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ کے حلقہ گورکھپور اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں پولنگ ہوئی۔ پارٹی میں حاشیے پر رکھ دیے جانے کے باوجود ملائم سنگھ یادو کا ابھی بھی پچھڑے طبقے خاص طور سے یادووں اور مسلمانوں میں کافی اثر ما نا جاتا ہے۔ چھٹے مرحلے میں بھی مسٹر یادو نے انتخابی مہم میں حصلہ نہیں کیا لیکن اعظم گڑھ ان کا پارلیمانی حلقہ ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں ایس پی کی ہار جیت کو براہ راست ملائم سنگھ یادو سے جوڑ کر دیکھا جا رہا تھا۔

یوپی اسمبلی انتخابات 2017: چھٹے مرحلے میں تقریبا 57.03 فیصد پولنگ

اسی طرح، گورکھپور اور اس کے ارد گردکے علاقوں میں اس انتخابات کو یوگی آدتیہ ناتھ کی مقبولیت سے جوڑ کر دیکھا گیا۔ مسٹر یوگی گورکھپور سیٹ سے پانچویں بار رکن پارلیمنٹ ہیں۔ انہیں ہندوتو کا کٹر حامی سمجھا جاتا ہے۔ گورکھپور، دیوریا، بلرام پور، بستی، کشی نگر اور مہراج گنج میں ان کا اچھااثر سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں ان کے اثرات والے علاقوں میں بی جے پی کی ہار جیت کو براہ راست یوگی آدتیہ ناتھ کی ساکھ سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ ادھر، ووٹنگ مراکز پر صبح سے ہی چہل پہل شروع ہو گئی تھی۔متعدد پولنگ مراکز پر تو سات بجنے سے قبل ہی ووٹروں کی قطاریں لگ گئی تھی۔ تاہم، بہت سے ویران بھی تھے۔ انتخابات کو غیر جانبدار اور پرامن طریقے سے پورا کرنے کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ اس مرحلے میں مرکزی فورسز کی 700 کمپنیوں کی تعیناتی کی گئی تھی۔

اس مرحلے میں دیوریا کے رکن پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر صنعت کلراج مشرا کی ساکھ بھی داؤ پر لگی تھی کیونکہ ان کے پارلیمانی حلقہ میں بھی اسی مرحلے میں ووٹنگ ہو رہی تھی۔ اس کے علاوہ اس مرحلے کو مئو اور غازی پور میں انصاری برادران کا سخت امتحان بھی مانا جا رہا تھا۔ چھٹے مرحلے میں جیل میں بند دو امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے تھے۔ ان میں مئو اسمبلی سیٹ سے بی ایس پی امیدوار مختار انصاری اور نوتنوا سے آزاد امیدوار امن منی ترپاٹھی شامل تھے۔ چھٹے مرحلے میں کل1.72 کروڑ ووٹر تھے، جس میں 77.84 لاکھ خواتین تھیں۔ ان کیلئے 17،292 پولنگ بوتھ بنائے گئے تھے۔ سال 2012 کے اسمبلی انتخابات میں 49 نشستوں میں سے سماجوادی پارٹی نے 27، بی ایس پی نے 9، بی جے پی نے 7، کانگریس نے چار اور دو سیٹوں پر دیگر نے جیت درج کی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز