فوجی سربراہ جنرل وپن راوت کی وارننگ ، سوشل میڈیا پر شکایت کرنے پر مل سکتی ہے سزا

Jan 15, 2017 05:17 PM IST | Updated on: Jan 15, 2017 05:17 PM IST

نئی دہلی: فوج اور سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی طرف سے سوشل میڈیا میں اپنی شکایات کا ويڈيو ڈالنے سے پیدا ہوئے تنازعہ کے درمیان فوجی سربراہ جنرل وپن راوت نے آج جوانوں کو آگاہ کیا کہ سوشل میڈیا پر شکایتی ویڈیوز ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

جنرل راوت نے آج یہاں آرمی ڈے کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ جوانوں کو اپنی مقررہ ضابطوں کے تحت کرنی چاہئے اور اس کے لئے سوشل میڈیا کا سہارا نہیں لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا "اگر ان کی سنوائی نہیں ہوتی ہے اور وہ مطمئن نہیں ہیں تو براہ راست مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔" ​​انہوں نے جوانوں کو آگاہ کیا کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کے ویڈیو ڈالنا جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے اور اس کے لئے سزا بھی ہوسکتی ہے کیونکہ اس طرح کے ویڈیو سے سرحد پر تعینات جوانوں کے حوصلوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

فوجی سربراہ جنرل وپن راوت کی وارننگ ، سوشل میڈیا پر شکایت کرنے پر مل سکتی ہے سزا

جنرل راوت نے کہا، "کچھ ساتھی اپنے مسائل رکھنے کے لئے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس کا اثر بہادر جوانوں پر پڑتا ہے جو سرحد پر تعینات ہیں۔ "فوجی سربراہ نے سوشل میڈیا پر شکایتی ویڈیو پوسٹ کرنے کے بارے میں کہا،" آپ نے جو کام کیا ہےاس کے لئے مجرم بھی قرار دئے جا سکتے ہیں اور سزا بھی مل سکتی ہیں۔ "

واضح ر ہے کہ فوج کے جوان یگیہ پرتاپ سنگھ کی طرف سے فوج میں ماتحتی فرائض کے بارے میں شکایتی ویڈیوز ڈالے جانے کے بعد سے فوج کی جانب سے کئی بار صفائی دی جا چکی ہے۔ خود جنرل راوت نے کہا ہے کہ ماتحتی میں کئے جانے والے کام فوج کے لئے اہم ہیں ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر کسی جوان کو ماتحتی کے تحت کئے جانے والے کام پسند نہیں ہیں تو اسے اپنے کمانڈر کو اس کی اطلاع دینی چاہئے اور اگر وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں تو شکایت اور تجاویز باکس کے ذریعے انھیں اپنی شکایت ان تک پہنچا سکتے ہیں ۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ جوانوں کی سبھی شکایات کا مناسب حل نکالا جائے گا۔

فوجی سربراہ نے کہا کہ ہندستانی فوج کنٹرول لائن پر امن اور استحکام کو ترجیح دیتی ہے لیکن اگر سرحد پار سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو اس کا منہ توڑ جواب دینے میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ چین سے ملحقہ سرحد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے لئے اعتماد سازی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے 15 جوانوں کو بہادری ایوارڈ سے نوازا۔ ان میں سے پانچ جوانوں کو یہ ایوارڈ بعد از مرگ دیے گئے۔ ان میں سیاچن میں برف میں دبنے کی وجہ سے شہید ہوئے لانس نائک هنومن تھپا كوپڈ بھی شامل ہیں ۔ جنرل راوت نے شہید هنومن تھپا کی اہلیہ کو بہادری ایوارڈ پیش کیا۔ جنرل راوت نے کہا کہ وہ فوج کے شہیدوں کو سلام کرتے ہیں کیونکہ ان کی قربانی کی وجہ سے ہی ملک محفوظ ہے اور ہم سب ان کے اور ان کے خاندانوں کے ممنون ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز