اب کچھ مسلم خواتین نے مجوزہ تین طلاق بل میں سزا اور معاوضے کو لازمی بنانے کا کیا مطالبہ ، پھر چھڑی بحث

مرکزی حکومت موسم سرما کے رواں اجلاس میں 14 نئے بل کو منظوری کے لئے پیش کرنے جارہی ہے۔ امید کی جارہی ہے کی ان میں ایک بار میں تین طلاق کہنے پرسزا اور معاوضے کے دینے کو لازمی بنانے والا بل بھی پیش کیا جائے گا۔

Dec 15, 2017 06:04 PM IST | Updated on: Dec 15, 2017 06:06 PM IST

لکھنو : مرکزی حکومت موسم سرما کے رواں اجلاس میں 14 نئے بل کو منظوری کے لئے پیش کرنے جارہی ہے۔ امید کی جارہی ہے کی ان میں ایک بار میں تین طلاق کہنے پرسزا اور معاوضے کے دینے کو لازمی بنانے والا بل بھی پیش کیا جائے گا۔ حالانکہ بل کیسا ہوگا کسی کو نہیں معلوم، مگر اس پر بحث شروع گئی۔ مسلم فرقے میں مردوں کی بالادستی کے حامی اس کو اسلام اور شریعت میں دخل مان رہے ہیں، تو چند مسلم خواتین اس کا کھلے دل سے خیرمقدم کر رہی ہے۔ اسلامی اسکالر نائش حسن نے کہا یہ بل مسلم خواتین کی محنت کے نتیجہ میں آیا ہے، میں ان کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ نائش نے کہا کہ ہم سماجی انصاف پر مبنی کسی بھی انصاف پسند قانون کا استقبال کریں گے۔

انہوں نے کہا برٹش انڈیا کے وقت تیار کیا گیا 1937 شریعت اپلیکیشن ایکٹ عورت مخالف تھا۔ جب یہ ایکٹ بنا تھا، تب اس وقت کے اسلام اور شریعت کے ماہرین نے وعدہ کیا تھا کی اس کو بہتر بنایا جائے گا، مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ نائش نے مانگ کی کہ مسلم فیملی لا کو قانون کی شکل میں لایا جائے ۔ بی جے پی لیڈر رومانا صدیقی نے کہا کی وہ اس بل کا خیرمقدم کرتی ہیں اور امید کرتی ہیں کی بل کو سزا اور معاوضے کی گنجائش بھی ہوگی۔ آل انڈیا مسلمان خواتین پرسنلا بورڈ کی صدر شائستہ عنبر نے اس بل کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ہندو میرج ایکٹ کی طرح آرٹیکل 14 کو بنیاد بناتے ہوئے مسلم میرج کوکو بھی قانونی شکل دی جانی چاہئے ۔ شائستہ عنبر نے مطالبہ کیا کہ نکاح نامے کا رجسٹریشن بھی ہو نا چاہئے۔

اب کچھ مسلم خواتین نے مجوزہ تین طلاق بل میں سزا اور معاوضے کو لازمی بنانے کا کیا مطالبہ ، پھر چھڑی بحث

مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بار میں تین طلاق کی حمایت میں ایک نوٹس لگا رکھا ہے ، جس میں لکھا گیا ہے کہ ہم مسلمان( مرد اور عورت) اسلامی شریعت پر یقین رکھتے ہیں،اور طلاق اسلام کا ایک لازمی حصہ ہے، جس پر پابندی ہمارے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ہم کو ہمارے پرسنل لا کی پیروی کرنے کی آزادی باقی رہنا چاہے۔ اس میں لوک سبھا اور سپریم کورٹ کی طرف سے مداخلت کو ہم غلط سمجھتے ہیں۔

صوفی تنظیم،آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کے صدر سید محمد اشرف نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ حکومت کے مجوزہ بل میں کیا ہے، لہٰذا ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ مگر انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہم تین طلاق کو مانتے ہیں، لیکن اسے بہتر بنایا جاسکتا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تنظیم معاشرے میں اصلاحات کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہم لوگوں کو سمجھا رہے ہیں کہ جیسے شادی کے وقت مولویوں کو بلایا جاتا ہے ، ویسے ہی طلاق کے وقت بھی مولویوں کو بلایا جائے۔ مولانا سید محمد اشرف نے بتایا کہ ہماری تنظیم شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکیوں کی مشاورت کا پروگرام بھی چلاتی ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز