نربھیا کو انصاف ملا : سونیاگاندھی ، پڑھیں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر کس نے کیا کہا ؟

May 05, 2017 04:12 PM IST | Updated on: May 05, 2017 07:27 PM IST

نئی دہلی: کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے نربھیا اجتماعی آبروریزی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر آج کہا کہ ہندوستان کی روح کو جھنجھوڑنے والے نربھیا معاملے میں فیصلہ کیا گیا ہے۔ محترمہ گاندھی نے یہاں ایک پیغام میں کہا، ’’میری ساری ہمدردی بہادر بیٹی کے بہادر اہل خانہ کے ساتھ ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اہل خانہ کی جدوجہد ، جنسی تشدد کے خلاف جنگ لڑنے والی ہر عورت کی جدوجہد کی علامت بن گئی ہے۔

اس سے پہلے کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے پارٹی ہیڈ کوارٹر میں باقاعدہ بریفنگ میں کہا کہ کانگریس سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے اور ایسے معاشرے کی تشکیل کرنے کا اعلان کرتی ہے جس میں ایسے جرم نہ ہوں۔ چار سال کے بعد بھی معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد کے تناظر میں حالات نہیں بدلے ہیں۔ حکومت اور معاشرے کو ایسا ماحول بنانے کی ضرورت ہے جہاں خواتین کے خلاف تشدد نہ ہو۔ مسٹر سبل نے خواتین کے تئیں تشدد کے سلسلے میں قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کا ذکر کیا اور کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد میں دہلی سب سے اوپر ہے۔ اس کی ذمہ داری طے کی جانی چاہئے۔ انہوں نے دیگر ریاستوں کا بھی ذکر کیا۔

نربھیا کو انصاف ملا : سونیاگاندھی ، پڑھیں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر کس نے کیا کہا ؟

کانگریس کے ترجمان پرینکا چترویدی نے فیصلے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا،’’آخر میں انصاف ہوا‘‘۔ انہوں نے امید ظاہرکی کہ نربھیا دیگر عورتوں کا حق یقینی بنانے میں اور بھی بہتر بنانے کے لئے روشنی دکھائے گی۔ کانگریس لیڈر شرمشٹھا مکھرجی نے کہا کہ آخر کار نربھیا معاملے میں انصاف ہوا۔ لیکن انہوں نے یہ بھی سوال کیا، ’’بالقیس بانو کیس کا کیا ہوا۔ ہمیں بلقیس بانو کے ساتھ آبروریزی کرکےاور اس کے خاندان کے افراد کا قتل کرنے والے درندوں کو سخت سے سخت سزا دلانے کے لئے جدوجہد کرنا چاہئے‘‘۔

خواتین اور بہبود اطفال کی وزیر مینکا گاندھی نے نربھیا اجتماعی عصمت دری معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خواتین کی سلامتی کی سمیت میں ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔ محترمہ گاندھی نے کہا کہ میں خوش ہوں کہ فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے میری خواہش ہے کہ جلد سے جلد اسے نافذ کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے معاملکے کی سماعت کے بعد آج چاروں قصورواروں کو پھانسی کی سزا برقرار رکھی۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ خواتین کی سلامتی کی سمت میں بڑا قدم ہے اور ا سے سماج میں اعتماد بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کو فیصلہ ہونے پر پانچ سال لگ گیا۔ یوں تو اس طرح کے معاملات میں کافی وقت لگتا ہے ۔ وزارت قانون اور ججوں کو اس سلسلے میں غور کرنا چاہئے کہ اس وقت کو کم کیسے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف ملنے میں تاخیر ایک طرح سے انصاف نہ ملنا ہے۔

فیصلہ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خواتین کمیشن کی صدر للتا کمار منگلم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ واقعہ آئندہ کے لئے ایک نظیر بنے گا۔ نربھیا کیس کے بعد سے ہی لوگوں میں خواتین کے تئیں جرائم کو لے کر بیداری میں اضافہ ہوا اور قانون بھی بدلا ۔

ادھر دہلی خواتین کمیشن کی صدر سواتی مالیوال نے کہا کہ یہ صرف نربھیا یا اس کے خاندان کی بات نہیں ہے ، بلکہ یہ سب کے لئے ہے۔ ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ تمام ریپ کرنے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز