جامعہ ملیہ اسلامیہ کو زمین دینا چاہتی تھی ایس پی حکومت، مگر کیجریوال حکومت کی زمین دینے کی نیت نہیں تھی : کمال اختر

Apr 17, 2017 09:09 PM IST | Updated on: Apr 17, 2017 09:09 PM IST

دہلی : دہلی میں کارپوریشن انتخابات کا ماحول ہے اور لیڈران کی جانب سے بیان بازی ، الزامات اور جوابی الزامات کا دور جاری ہے۔ سماجوادی پارٹی کے لیڈر کما ل اختر نے جامعہ میڈیکل پروجیکٹ کے سلسلے میں بڑا بیان دیتے ہوئے دہلی کی عام آدمی پارٹی حکومت پر سنگین الزا م لگایا ہے ۔ کمال اختر کا کہنا ہے کہ اکھلیش حکومت تو یونیورسٹی کو زمین فراہم کرنا چاہتی تھی ، لیکن دہلی حکومت اس معاملہ کو سیاسی موضوع بناکر رکھنا چاہتی تھی ، اسی لئے یہ معاملہ اب تک زیرالتواہے ۔

سماجوادی پارٹی کے لیڈر کمال اختر نے دہلی کے جامعہ نگر میں ایک انتخابی ریلی کے دوران عام آدمی پارٹی کی مسلم ہمدردی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اکھلیش حکومت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے میڈیکل پروجیکٹ کے لیے زمین دینا چاہتی تھی ، لیکن دہلی کی کجریوال حکومت نے ایسا نہیں ہونے دیا ۔ کمال اختر نے کہا کہ دہلی حکومت میٹر وکے لئے زمین خرید نے کیلئے تیار ہے ، لیکن جامعہ کیلئے کجریوال حکومت اترپردیش کو زمین کی قیمت دینے کے تیار نہیں ہوئی ۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کو زمین دینا چاہتی تھی ایس پی حکومت، مگر کیجریوال حکومت کی زمین دینے کی نیت نہیں تھی : کمال اختر

ساتھ ہی ساتھ ایس پی لیڈر نے عام آدمی پارٹی حکومت پر اردو اساتذہ کے ساتھ ناانصافی کا بھی الزام لگایا اور سوال کیا کہ اردو اساتذہ کی تنخواہیں دہلی حکومت نے کیوں نہیں بڑھائیں ۔ـ

خیال رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نزدیک ہی 114بیگہ زمین پہاڑی علاقہ کی صورت میں ہے ۔ دہلی کے ایل جی نجیب جنگ نے اس زمین کو یونیورسٹی کو دے دیا تھا ۔تاہم اترپردیش حکومت اس زمین پر اپنی ملکیت کا دعوی کرتے ہوئے معاملہ کو کورٹ لے گئی ۔عدالت نے دونوں حکومتوںکو مل کر مسئلہ حل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ وزیر اعلی کجریوال اور اکھلیش یادو اس مسئلہ کو لے کر مل بھی چکے ہیں ، تاہم ابھی یہ معاملے زیر التواءہے ۔

ادھر جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سماجوادی لیڈرکمال اختر کے بیان کو مسترد کردیا ہے۔ جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد کا کہنا ہے کہ جب سماجوادی پارٹی اقتدار میں تھی ، تب انھوں نے زمین نہیں دی ،اس لئے اب اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز