پولیس کی نوکری کے ساتھ اردو ادب کی خدمت کر رہے ہیں ایس پی ٹریفک لکھنؤ حبیب الحسن‎

May 16, 2017 06:34 PM IST | Updated on: May 16, 2017 06:35 PM IST

لکھنؤ۔ کسی اردو ادارے،  ادبی انجمن ، اسکول اور کالج سے منسلک ہونے کے بعد اردو زبان وادب کی خدمت کی جائے تو کوئی نئی بات نہیں لیکن اگر کوئی پولیس مین اپنی وردی کی ذمہ داریاں بخوبی ادا کرتے ہوئے اردو زبان و ادب کی خدمت کا جذبہ رکھتا ہو تواچھا ضرور لگتا ہے۔ لکھنؤ میں ایس پی ٹریفک کی اہم ذمہ داریاں ادا کر رہے حبیب الحسن ایک ایسے ہی شخص کا نام ہے جو شاعری کے ذریعے لوگوں کے جذبات ارود زبان وادب میں منتقل کررہے ہیں۔

عام طور سے دیکھا جاتا ہے کہ پولیس والوں کی زندگی جتنی سخت اورعجیب ہوتی ہے اتنی ہی ان کی زبان بھی تلخ اور کڑواہٹوں سے بھری ہوتی ہے ۔ لیکن شہد اگرنیم کے پیڑ پر لگا ہو تو زیادہ مفید ہوجایا کرتا ہے۔ حبیب الحسن لکھنؤ میں ایس پی ٹریفک ہیں۔  سارا دن بھاگتے دوڑتے رہنا اور لوگوں کو صحیح راستے پرچلانا ان کے فرائض میں شامل ہے۔ حبیب اردو کے بھی حبیب ہیں۔ نہایت عجیب وغریب انسان ہیں وہ اس لئے کہ اپنے فرائض نہایت  محنت اور  ایمانداری سے انجام دیتے ہیں اور باقی وقت اردو لکھنے پڑھنے میں گزارتے ہیں۔ حبیب الحسن کہتے ہیں کہ شاعری اردو زبان نے انہیں بات کرنے کا سلیقہ عطا کیا ہے۔ اردو شاعری نے انہیں انسانی دکھ درد کو سمجھنے کے مواقع  فراہم کئے ہیں جس سے وہ اپنا کام بہتر طور پر کر پارہے ہیں۔

پولیس کی نوکری کے ساتھ اردو ادب کی خدمت کر رہے ہیں ایس پی ٹریفک لکھنؤ حبیب الحسن‎

حبیب الحسن پولیس کی وردی میں

حبیب الحسن الہٰ آباد کے مضافات میں واقع  اسراوے کلاں کے رہنے والے ہیں۔ ایم اے فلاسفی میں کیا تھا ۔ بنناچاہتے تھے لیکچرر اور قسمت میں لکھی تھی پولیس کی نوکری۔ آج ان کی زبان ان کے تہذیبی رویے، لوگوں سے پیش آنے کے طریقےاور اپنے ساتھیوں سے گفتگو کرنے کے انداز کے بڑے چرچے ہیں۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے لوگ ان کی زبان کے مداح ہیں۔ اہل لکھنؤ ان کے شعری رویوں کی قدر کرتے ہیں اورشاعری نے ان کے جذبات میں گداز پیدا کرکے انہیں انسانوں کے ساتھ سلیقے اور شرافت سے پیش آنے کا شعور بخشا ہے۔ حبیب الحسن اردو کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن نوکری کی وجہ سےابھی قلم اتنی تیز نہیں چل پارہا ہے جتنی ان کی خواہش ہے۔

حبیب الحسن نیوز ۱۸ سے بات کرتے ہوئے۔ حبیب الحسن نیوز ۱۸ سے بات کرتے ہوئے۔

انہوں نے کہانیاں بھی لکھی ہیں، افسانے بھی اور  غزلیں اور نظمیں بھی ۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ حبیب الحسن نے تہیہ کر لیا ہے کہ وہ پولیس کی نوکری کے فرائض بھی ایمانداری سے ادا کریں گے اور اردو زبان کی فلاح  و بہبود اور ترقی کے لئے بھی آخری سانس تک کوششیں کرتے رہیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز