رام جنم بھونی احاطہ میں دہشت گردانہ حملے کے کیس میں عدالت کا فیصلہ موخر ، اگلی سماعت پانچ دسمبر کو

اجو دھیا کے متنازعہ رام جنم بھومی احاطے میں پانچ جولائی 2005 کو ہوئے دہشت گردانہ حملے کے سلسلے میں گرفتار شدہ پانچ ملزمان کے بارے میں آج آنے والے فیصلے کو خصوصی عدالت نے ٹال دیا۔

Nov 30, 2017 10:07 PM IST | Updated on: Nov 30, 2017 10:07 PM IST

الہ آباد : اجو دھیا کے متنازعہ رام جنم بھومی احاطے میں پانچ جولائی 2005 کو ہوئے دہشت گردانہ حملے کے سلسلے میں گرفتار شدہ پانچ ملزمان کے بارے میں آج آنے والے فیصلے کو خصوصی عدالت نے ٹال دیا۔ اس معاملہ میں عدالت نے استغاثہ کے تین اہم گواہوں کو ثبوت کے لئے طلب کیا ہے جس کی سماعت آئندہ پانچ دسمبر کو ہوگی۔ حملے میں پانچوں دہشت گردوں کو مستعد سکیورٹی نے مار گرایا تھا. اس حملے میں ایک خاتون سمیت دو مقامی شہریوں کی بھی موت ہوئی تھی.

معاملے کی سماعت کر رہے ایڈشنل ضلع جج پریم ناتھ کے فیصلے کو سننے کے لئے نینی جیل کے باہر میڈیا اور دوسرے لوگوں کی بھیڑ تھی۔سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے نینی سینٹرل جیل میں بنائے گئے خصوصی عدالت میں ایڈشنل ضلع جج کو پاچو ملزمان کے بارے میں آج فیصلہ سنانا تھا لیکن عین موقع پر عدالت نے تین اہم گواہوں کو ثبوت کے لئے طلب کر لیا۔

رام جنم بھونی احاطہ میں دہشت گردانہ حملے کے کیس میں عدالت کا فیصلہ موخر ، اگلی سماعت پانچ دسمبر کو

file photo

غور طلب ہے کہ پانچ جولائی 2005 کی صبح سوا نو بجے کے ارد گرد دہشت گردوں نے رام جنم بھومی احاطے میں جدید ہتھیاروں، راکٹ لانچر اور دستی بم وغیرہ سے حملہ کر دیا تھا. تقریبا َڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی تصادم میں پانچوں دہشت گرد مار گرائے گئے تھے. ہلاک دہشت گردوں کی شناخت نہیں ہو سکی تھی. حملے میں معصوم رمیش کمار پانڈے اور امن دیوی کو بھی جان گنوانی پڑی تھی۔

اس تصادم میں داروغہ نند کشور، ہیڈ كاسٹےبل سلطان سنگھ، دھرم ویر سنگھ پی اے سی سپاہی ہمانشو یادو، کشن سوروپ ارف کرشن شکل، پریم چندر گرگ اور وکمانڈنٹ ستو دیوی زخمی ہوئے تھے. پولیس کی تفتیش میں اسلحوں کی سپلائی کرنے اور دہشت گردوں کے مددگار کے طور پر آصف اقبال، محمد نسیم، محمد عزیز، شکیل احمد اور ڈاکٹر عرفان کا نام سامنے آیا. سب کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیاتھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز