الہ آباد ہائی کورٹ کے سمپوزیم میں یکساں سول کوڈ کی حمایت میں خوب ہوئیں  تقریریں 

ملک میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے عملی طریقہ کے موضوع پر الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا ۔

Sep 21, 2017 11:42 PM IST | Updated on: Sep 21, 2017 11:44 PM IST

الہ آباد : ملک میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے عملی طریقہ کے موضوع پر الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا ۔ سمپوزیم کی صدارت الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارون ٹنڈن نے کی ۔ پروگرام میں ہائی کورٹ سے وابستہ ماہرین قانون نے شرکت کی ۔ تاہم سمپوزیم میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قانون مشیر ایڈو کیٹ ایم اے قدیر کو بھی مدعو کیا گیا تھا ، مگر انہوں نے شرکت نہیں کی ۔ سمپوزیم میں مقررین نے یکساں سول کوڈ کی حمایت میں جم کر تقریر یں کیں ۔ تقریباً سبھی وکلا کا کہنا تھا کہ یکساں سول کوڈ اس ملک کے لئے نا گزیر ہے ۔

مقررین نے سمپوزیم میں جس طرح سے یک طرفہ طور پر یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ زعفرانی سوچ سے متاثر ایک مخصوص فکر کے وکیلوں کا مجمع تھا ۔ اسی لیے اس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے مشیر قانون ایڈو کیٹ ایم اے قدیر شامل نہیں ہوئے۔ کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ ان کی بات کو اس سمپوزیم میں نہیں سنی جائے گی۔

الہ آباد ہائی کورٹ کے سمپوزیم میں یکساں سول کوڈ کی حمایت میں خوب ہوئیں  تقریریں 

یہ چرچہ بھی عام ہے کہ موجودہ ریاستی اور مرکزی حکومت کے اشارے پر یہ شوشہ چھوڑا گیا ہے ۔ مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ قانون دانوں کی جانب سے یہ مدعا اٹھے، جس سے اس کو اس پر قانون بنانے کا پورا موقع اور بہانہ ملے۔ ویسے ملک کا موجودہ قانون بھی دیکھا جائے تو کامن سول کوڈ ہی ہے ۔ اس میں کسی کے جرم کرنے پر ایک سی سزا دی جاتی ہے۔ لیکن بی جے پی کا مقصد صرف اقلیتوں پر شکنجہ کسنے کے لیے اس قانون کی سخت ضرورت ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز