سرحد پر کشیدگی کے باوجود سری نگر۔ مظفرآباد کاروان امن بس سروس جاری

May 29, 2017 08:04 PM IST | Updated on: May 29, 2017 08:04 PM IST

سری نگر : وادی کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے باوجود گرمائی دارالحکومت سری نگر اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کی دارالحکومت مظفرآباد کے درمیان چلنے والی ہفتہ وار ’کاروان امن بس سروس‘ جاری رہی۔ شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں ایل او سی پر گذشتہ دس دنوں کے دوران 10 جنگجو اور 3 فوجی اہلکار مارے گئے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ہفتہ وار کاروان امن بس پیر کی علی الصبح اوڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے اِس پار واقع کمان پوسٹ جو کہ ہندوستانی فوج کی آخری چوکی ہے، کی طرف روانہ ہوئی۔ اس ہفتہ وار بس سروس کا آغاز 7 اپریل 2005 کو ہوا تھا اور تب سے اِس کے ذریعے ہزاروں لوگ آرپار اپنے عزیز واقارب سے ملے ہیں۔ خیال رہے کہ فوج نے 27 مئی کو ضلع بارہمولہ کے اوڑی میں ایل او سی پر دراندازی کی ایک بڑی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے 6 بھاری مسلح جنگجوؤں کو ہلاک کیا۔

سرحد پر کشیدگی کے باوجود سری نگر۔ مظفرآباد کاروان امن بس سروس جاری

فائل فوٹو

اس سے ایک روز قبل فوج نے اوڑی سیکٹر میں ایل او سی پر پاکستانی باڈر ایکشن ٹیم (بیٹ) سے منسلک دو اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ 21 مئی کو شمالی ضلع کپواڑہ کے نوگام سیکٹر میں جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی ایک خونریز جھڑپ میں 4 جنگجو اور 3 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

دوسری جانب وادی کے اندر صورتحال 27 مئی سے کشیدہ بنی ہوئی ہے۔ وادی میں 27 مئی کو صورتحال اُس وقت انتہائی کشیدہ رخ اختیار کرگئی جب جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے سیموہ ترال میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر سبزار احمد بٹ اور ان کے ساتھی فیضان مظفر بٹ کی ہلاکت کی خبر وادی کے اطراف وکناف میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز