پیلٹ گن نہیں اب کارنر شاٹ گن کے سہارے کشمیر میں پتھربازوں سے نمٹے گی ہندوستانی فوج

Jul 05, 2017 11:00 AM IST | Updated on: Jul 05, 2017 11:01 AM IST

نئی دہلی : پیلٹ گن کے بعد کشمیر کے پتھربازوں کا ایک اور علاج ڈھونڈ لیا گیا ہےاور جلد ہی پتھربازوں پر اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ علاج کارنر شاٹ گن ہے۔ پہلے اسرائیل اور اب اسرائیل کے تعاون سے ہی ملک کے مدھیہ پردیش کے بھنڈ میں پنج لایڈ میں کارنر شاٹ گن بنائی جا رہی ہے۔

ماہرین بتاتے ہیں کہ کارنر شاٹ گن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اسے چلانے کے لئے پتھربازوں کے سامنے آنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ خود کو چھپاتے ہوئے دیوار کی اوٹ میں کھڑے ہو کر کارنر شاٹ گن چلائی جا سکتی ہے۔ اس گن کے آگے کا حصہ کسی بھی سمت میں گھوم جاتا ہے۔ گن کے ساتھ ایک ڈسپلے بھی ہےاور دیوار کی اوٹ میں کھڑے کھڑے گن میں لگے کیمرے کی مدد سے ڈسپلے پر پتھربازوں کی لوکیشن دیکھی سکتی ہے۔

پیلٹ گن نہیں اب کارنر شاٹ گن کے سہارے کشمیر میں پتھربازوں سے نمٹے گی ہندوستانی فوج

file photo

جس سمت میں پتھرباز کھڑے ہیں ، اسی سمت میں گن کا منہ کرکے پلاسٹک کی گولیاں داغی جاسکتی ہیں۔ ایک مرتبہ پتھربازوں کی بھیڑ کی لوکیشن معلوم کرلینے کے بعد دیوار کی اوٹ میں کھڑے ہو کر پتھربازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

آگ جیسی جلن ہوتی ہے گولیوں سے

کارنر شاٹ گن سے نکلنے والی گولی یوں تو پلاسٹک کی ہوتی ہے، لیکن گن سے نکلنے کے بعد جب یہ گولی کسی کے جسم کو چھوتی ہے ، تو جسم کے اس حصے میں تیز جلن شروع ہو جاتی ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ گولی لگنے کے بعد جسم میں آگ لگنے جیسی جلن محسوس ہوتی ہے۔

گرینیڈ بھی داغ سکتا ہے کارنر شاٹ گن

کارنر شاٹ گن کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ گن گرینیڈ بھی داغ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ پستول جیسی دیگر چھوٹی گن بھی اٹیچ کرکے چلائی جا سکتی ہے۔ اس کا سائز تقریبا 33 انچ ہوتا ہے اور وزن 400 گرام کے لگ بھگ ہوتا ہے۔

جنگی آپریشن میں ہوتی ہے استعمال

کارنر شاٹ گن خاص طور پر جنگی آپریشن کے لئے استعمال میں لائی جاتی ہے۔ دہشت گردوں نے کچھ لوگوں کو ہوائی جہاز، کسی بلڈنگ میں یرغمال بنا لیا ہے اور سیکورٹی فورسز کو یہ پتہ نہیں ہے کہ جہاز اور بلڈنگ میں دہشت گرد اور مغویہ افراد کہاں ہیں، ایسے میں کارنر شاٹ گن کا استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں پر حملہ بولا جاتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز